مجھے امید ہے کہ بلوچستان اور سندھ دونوں مل کر جدوجہد کرینگے، نواب مری

(وینگاس یاسمین(Veengas Yasmeen) ایک ممتاز جرنلسٹ ہے وہ انگلش” ڈیلی دی فرٹےئر پوسٹ “، “ماہانہ دی بولان وائس”اورسندھی “ڈیلی عبرت میں آرٹیکل لکھتی ہیں۔ انہوں normal_Khair2520Bux2520Muree252028829نے حال ہی میں ممتاز قوم پرست رہنما بابائے بلوچ سردار خیر بخش مری کا انٹرویو کیا۔)

جناب خیر بخش مری نہیں بولتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو بہت سے چہر ے ناراض ہوجاتے ہیں وہ کیونکر بولتے ہیں کیا دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں ؟اور بلوچستان انکی نظر میں کیا سوچتا ہے۔

سوال :۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دنیا اب تک کولڈ وار میں ہے اور آپ کاابھی تک سیاسی دنیا کے بارے میں کیا تجزیہ ہے؟
جواب :۔ دنیا کبھی جنگ سے باہر نہیں نکلی ہے، بعض اوقات یہ گرم اور کبھی ٹھنڈی ہوتی ہے ۔ تمام لوگ لڑتے ہیں جنگ میں ، جیسا برطانیہ ، رومن ،صرف یہ دونوں نہیں اس سے پہلے بھی بہت سارے لوگ لڑتے رہے تھے اور دنیا کے دوسرے لوگ بھی جو کو لڈ وار میں رہے۔

سوال : ۔ کیا دنیا سرد جنگ یا گرم جنگ میں ہے ؟
جواب:۔ کچھ لوگ سرد جنگ میں ہیں اور ہم جیسے لوگ گرم جنگ میں ہیں۔

سوال :۔ یہ گرم جنگ آپ کے لئے کیسی ہے ۔
جواب:۔ (مسکرا کر )بلوچستان میں آپریشن ہورہا ہے ہمیں لاشیں مل رہی ہیں میں یہ کہوں گا کہ یہی تو گرم جنگ ہے ۔ ہمارے لئے ۔

سوال :۔پاکستان کی موجودہ صورتحال یعنی 2013کے الیکشن کے بارے میں آپکی رائے کیا ہے آپ اس سے متفق ہیں یا نہیں ہیں؟
جواب:۔ میں پاکستان کے وجود کو قائم ہوتا نہیں دیکھتا۔

سوال : ۔ لیکن یہ عمل جاری ہے ہر چند کہ ماضی میں آپ بھی اس عمل کا حصہ رہ چکے ہیں آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے اور کیا مستقبل کی کوئی گورنمنٹ ہوگی ؟
جواب:۔ میں اسے نہیں سمجھتااس لئے کیا دیکھ سکھونگا۔

سوال : الیکشن 2013؟
جواب:۔ میں پاکستان کے وجود کو قائم ہوتا ہوا نہیں دیکھتا ہوں ۔

سوال :۔ اچھا یہ آپ کا پوائنٹ آف ویو ہے۔ آجکل یہ نظام سیاسی عمل کا ہے اور الیکشن چاروں صوبوں میں ہور ہے ہیں اگر الیکشن ہوگئے اور بلوچستان اسمبلی منتخب ہوتی ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ بلوچستان اسمبلی منتخب ہوچکی ہے اور پھر آپ کہاں کھڑے ہونگے کیونکہ یہ سیاسی عمل ہے اور کوئی بھی اس سیاسی عمل کو رد نہیں کرسکتا ۔ کیا آپ یہ خیال نہیں کرتے؟
جواب :-  بات کرنے دوران خیر بخش مری راضی نہیں دکھائی دے رہیں کہ جواب دیاجائے پھر کہا )مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے یا میں اپنے آپ کو بیوقوف یا ہوش مند بنا رہا ہوں ۔ جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ یہ وہ ملک ہے جس کا کوئی وجود نہیں کیا میں اسے ملک کہوں یا گیم یا روبوٹ جسکا اب تک آپریشن ہورہا ہے ۔بنگال کہتا ہے کہ پاکستان امریکہ کا ایجنٹ ہے یا سامراجی طاقت ہے ۔ پاکستان کہاں ہے میں اسے کس طرح پکارو ں، یہ فوج ہے یا پنجاب ہے مجھے افسوس ہے کیا یہ تمہارا ہے یا میراسندھی جملے کا حوالہ دیتے ہوئے یہی کہ سندھی میں سنتے ہیں کہ آپ قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ لیکن پاکستان ہے کہاں پہلے اسے برطانیہ نے چلایا اب امریکہ چلارہا ہے۔اسی لئے کہتا ہوں کہ کونسا پاکستان ہے۔جسے آپ کہہ رہے ہیں۔

سوال :۔ جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا کوئی وجود نہیں ہے اور ابھی تک امریکہ اور دیگر قوتوں نے اسے سپورٹ کیاہوا ہے ؟
جواب؛۔ میر ا مطلب ہے کہ یہ ملک یا ریاست جہاں پنجابی اور مہاجر اپنے آپ کو قوم کہتے ہیں کونسی قوم کا ملک ہے یہاں صرف طاقتورکا حکم چلتا ہے ۔

سوال :۔ آپ بین الاقوامی قوتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔آپ کیسا دیکھتے ہیں جب بین الاقوامی طاقت کبھی پاکستان کو لولی پاپ دیتی ہے اور قوم پرستوں کو چائے کی دعوت تو کیا دوغلی پالیسی نہیں ہے انکی؟
جواب:۔ میں نہیں سمجھتا کہ کون سپورٹ کررہا ہے ۔

سوال :۔ ایک نرم رویہ قوم پرستوں کی طرف جوکہ باہر ممالک میں رہتے ہیں جیسا کہ آپ کا بیٹا حیر بیار مری
جواب:۔ (مسکر ا کر)میرے خیال میں یہ ایک اکیلا آدمی ہے جوکہ اخلاقی امداد کرتا ہے ۔

سوال:۔ کیا آپ یہ یقین نہیں کرتے کہ امریکہ میں تبدیلی ہورہی ہے اور اب لوگ اوپر آرہے ہیں جو کہ قوم پرستوں کی سیاست کو سپورٹ کرتے ہیں ۔
جواب:۔ (ہنستے ہوئے) میں اس قابل نہیں کہ کچھ کہوں لیکن اب یہ ہورہا ہے ۔

سوال:۔ تب آپ یہ خیال نہیں کرتے کہ بین الاقوامی طاقت بطور بلیک میلنگ یہ ٹول استعمال کررہی ہے اگر آپ ان کے پیچھے نہیں چلیں گے تو وہ قوم پرستوں کو سپورٹ کرینگے۔
جواب:۔ (زور دیتے ہوئے کہتے ہیں)انہیں بلیک میلنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ ایک ہی دھمکی سے جلد خوفزدہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ اب چائنا انہیں آنکھیں دکھا رہا ہے۔

سوال:۔وہ کون؟
جواب:۔ یہ امریکہ کے غلام

سوال: ۔ آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں مشرف ڈکٹیٹر کے کیس کو، جو کہ عدالت میں ہے یہ پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں ہورہا ہے جیسا کہ اس کے محل کو سب جیل قرار دیا گیا ہے ۔کیا انتظامیہ اس مقدمہ کو استعمال کرنا چاہتی ہے، ایک ٹشو پیپر کے طورپر تاکہ اس کے چہرے کو صاف کیاجائے ۔
جواب:۔ بلوچستان کیلئے ججز حکم دے چکے ہیں لیکن ان پر توجہ کون دے رہا ہے؟ آپ اسکو کیوں اہمیت دے رہے ہیں؟

سوا ل پر جواب: ۔ تمام دنیا اس کو اہمیت دے رہی ہے ۔
جواب ۔ (تب مسکراتے ہوئے) یہ دنیا بلی ، چوہے ،کتوں اور شیروں کی ہے یہ دنیا تقسیم ہے طاقتور لوگ قتل کرتے ہیں چوہے اور بلیوں کو آپ دیکھ سکتے ہیں سعودی عرب میں اوربین الاقوامی طاقتوروں میں کہ وہ کیا قوت رکھتے ہیں۔

سوال :۔ تو آپ مشرف کے کیس کو اہمیت نہیں دیتے ؟
جواب:۔ مشرف کبھی کہتا ہے کہ سب کچھ آرمی نے کیا ہے اور کبھی کہتا ہے کہ یہ صرف ایک آدمی نے کیا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟یہ کس نے کیا ہے کیا سب ان میں ملوث تھے؟ آپ اس طرح کے

سوال کیوں پوچھتے ہو
(سوال کرنے والا جواب دیتا ہے) دنیا جاننا چاہتی ہے مشرف کے کیس کو ۔
جواب :۔ کونسی دنیا

سوال :۔آخر کار میں نہیں کہہ سکتی چوہے اور بلی کی دنیا ،میں کہہ رہی ہوں میرے جرنلزازم کی دنیا کو ۔ اُسکا کیس کچھ بھی نہیں آپ کے لئے ۔ جب کہ مشرف نے ایک خونی پالیسی اپنائی بلوچستان میں اب تک کسی بھی ڈکٹیٹر کو کورٹ میں حاضر نہیں کیا گیا یہ پہلا موقع ہے کہ مشرف اند ر ہے کیا ابھی تک یہ آپ کو تبدیلی نظر نہیں آتی ہے خفیہ ہاتھ جس کواسٹبلشمنٹ کہتے ہیں 1948سے بلوچستان میں بہت بُرا کھیل کھیل رہا اور ایک ڈکٹیٹرجیل میں ہے کیا یہ بہت بڑا ڈرامہ ہے ؟
جواب:۔میرے لفظوں میں یہ کوئی تبدیلی نہیں ہے ہاں البتہ تم اسے کہہ سکتی ہو کہ یہ ایک ڈرامہ ہے

سوال : اگر مشرف آپ کے ہاتھ آجائے آپ کیا کرو گے ؟
جواب:۔وہ کبھی بھی میرے ہاتھ میں نہیں دینگے اگر وہ ہاتھ آیا تو پھر سوچوں گاکہ میں اسکے ساتھ کیا کروں گا۔

373036_357389970963162_1879763642_nسوال :۔ مشرف کہتا ہے کہ میں نے بے نظیر اور اکبر بگٹی کو قتل نہیں کیا ہے تو پھر کس نے کیا ہے ؟
جواب:۔ اگر اُس نے نہیں کیا ہے تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ اشارہ دے رہا ہو کہ پٹھانوں نے پنجابیوں نے یا آرمی نے (کیونکہ پٹھان بھی تو فوج میں ہیں ) جبکہ ہم بلوچ تو محروم ہیں۔پھر اچانک کہتے ہیں نیا پاکستان میں تمیز نہیں کرسکتا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنائیں گے تو پھر آخر بتائیں کہ پرانا پاکستان کیا تھا۔ کیسے موازنہ کروگے ؟
(سوال کرنے والی جواب دیتی ہے)یہ ایک سیاسی نعرہ ہے اب اس پر کچھ نہیں کہتے ہیں ۔

سوال:۔ جناب اختر مینگل 6نکات لائے ہیں اور جب لوگ ان کے 6نکات کو مجیب الرحمن سے موازنہ کررہے ہیں کیا کہتے ہیں آپ اس پر؟
جواب:۔ حقیقی نقطے کو بھول گئے پہلے وہ اپنی حیثیت ظاہر کریں ۔بلوچ باہر کے ممالک میں ہیں ۔ بلوچ پہاڑوں میں ہیں اور بلوچستان میں رہتے ہیں جبکہ اخترمینگل” سرکا ر پاکستان “کے آدمی ہیں ۔

سوال:۔ کونسی سرکار گورنمنٹ؟
جواب:۔ وہ گورنمنٹ جو کہ گورنمنٹ نہیں ہے لیکن گورنمنٹ کہلاتی ہے ۔

سوال:۔ اختر مینگل نے کہا کہ میرے والدکی خواہش تھی۔۔KBMنے مداخلت کی اور کہا کہ آپ مجھے اور انہیں لڑانا چاہتے ہیں

سوال پر جواب:۔ نہیں مری صاحب میں تاریخی ریکارڈ بنانا چاہتی ہوں ۔ جیسا کہ آپ کے پاس تاریخی حوالہ ہے اور آپ اُ سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں تاریخ کے اوراق پر ۔
جواب :۔مسکراتے ہوئے اچھا تو یہ جوا ہے ۔

سوال :۔ نہیں ۔ اچھا ، زندگی بذات خود جوا ہے ۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ بھٹو نے متعارف کرایا قانون سردار ی نظام کے خلاف1976میں لیکن اختر مینگل نے کہا کہ میرا والد راضی تھا کہ سرداری نظام کو ختم کیاجائے جو کہ وہ نہیں کرسکا بھٹو کی وجہ سے کیا آپ کو یقین ہے کہ مینگل راضی ہے اس نظام کو ختم کرنے میں؟
جواب:۔ سرداری نظام صدیوں پر محیط ہے اسے مشکل سے ختم کیاجاسکتا ہے ۔جبکہ یہ بہت وقت لے گا اور اسے جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ جو کہ سرداری نظام کے خلاف ہو۔ بھٹو نے کہا تھا کہ جاگیر دارانہ نظام ختم کردونگا لیکن ابھی تک جاگیردارانہ نظام فیوڈل لارڈز کی طاقت کے ساتھ لاگو ہے ۔ صرف سردار ہی کیوں گنے جاتے ہیں ۔یہاں پر چوہدری ، خان ، وڈیرے بھی ہیں لوگ مجھ سے سرداری نظام کے متعلق پوچھتے ہیں ہم اسے ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے تو انقلاب کی ضرورت ہے

سوال :۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہاں جاگیردارانہ نظام خاندانی ٹھوس پن کے ساتھ رائج ہے اگر بلوچ انقلاب میں داخل ہوتے ہیں تو کیا قبائلی نظام ختم ہوجائے گا؟
جواب :۔ شاید یہ ختم ہونے میں وقت لے گا۔

سوال :۔ کیا آپ بُرا مانتے ہیں اگر لوگ آپ کو سردار کہیں تو؟
جواب :۔ سردار تہذیبی اور ثقافتی نام ہے آج کل لوگ مجھے نواب کہتے ہیں یہ برٹش گورنمنٹ کی طرف سے تھا لیکن میں برٹش دورِ حکومت میں نہیں تھا۔

سوال : ۔ اگر لوگ آپ کو نواب کہیں تو کیا آپ کو غصہ آئے گا؟
جواب:۔ نہیں ، تمام غصے اب ٹھنڈئے ہوگئے ہیں ۔

سوال:۔ ہم سن رہے ہیں F.I.Rبے نظیر بھٹو مرحومہ اور اکبر بگٹی مرحوم کے لئے لیکن بالا چ مری کے لئے کوئی F.I.Rنہیں
جواب:۔ اگر میں کچھ بے نظیر قتل کیس کے لئے کہوں تو سندھی ناراض ہوجائیں گے ۔ اکبر بگٹی اور بالا چ دونوں کو مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے قتل کیاگیا ۔

سوال:۔ بے نظیر کو کس نے قتل کیا؟
جواب:۔ مجھے شک ہے۔میرے پاس گواہ یا شہادت نہیں لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ بے نظیر کو مولویوں نے قتل کیا۔

سوال :۔ آپ کا خیال ہے کہ دہشت گرد ی کے نام پر اسے قتل کیاگیا اور دہشتگردی کی کوئی F.I.Rنہیں ہوتی ؟
جواب : میرے خیال میں دہشت گردی کا مطلب یہ ہے کہ جب لو گ آپ کے نام سے خوف زدہ ہوں۔یہ سرکار کے آلہ کار ہیں اور یہ ٹارگٹ کلنگ ہے انتہاپسند (ملا) بھی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں ۔ دہشت گردی تو بلوچستان میں ہے جہاں ہم بلوچ روزانہ لاشیں وصول کررہے ہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتے جو دہشت گردی بلوچستان میں ہورہی ہے۔

سوال :۔ بلوچستان جل رہا ہے اوراب ایک الیکشن ہونے جارہے ہیں ؟
جواب:۔(مسکراتے ہوئے) کونسے الیکشن؟

سوال:۔ آپ نے دہشت گردی کے متعلق کہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کو لشکر جھنگوی کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہو اس کے پیچھے کیا عوامل کار فرما image2sہیں کچھ لوگ کہتے ہیں یہ پہلے سے طے شدہ ہے اور بلوچستان کے حقیقی ایشو سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے ؟
جواب:۔ یہ گورنمنٹ کے قریبی لوگ ہیں ایران اور سعودیہ عربیہ کے بلوچستان میں اپنے مفادات ہیں ان کے لئے بلوچ بہت بڑی رکاوٹ ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں اگر بلوچستان پاکستان کے ساتھ قائم نہیں رہتا تو پھر پاکستان بھی نہیں رہے گا۔

سوال : ۔ آپ نے بڑا وقت افغانستان میں گذارا ہے کیا آپ فرق بتا سکتے ہیں کہ دیسی افغان اور طالبان یا مجاہدین کیا یہ دونوں طرف سے سکّے کے ایک ہی رخ ہیں؟
جواب :۔ دیسی افغان کونساہزارہ ، پشتون ، ازبک یا تاجک

سوال :۔ پھر آپ کس کو کہو گے ؟
جواب:۔ تو آپ دوبارہ مجھے ان سے لڑواؤ گے ۔

سوال :۔ نہیں صرف واضح کرنا چاہتی ہوں ۔
جواب:۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔

سوال :۔ افغانستا ن میں کچھ قبائلی انڈیا کے قریب ہیں ؟
جواب:۔ اگر میں سوال کررہاہوتا تو آپ کا جواب کیا ہوتا۔

سوا ل  مسکراتے ہوئے )نہیں شکریہ میں سوال پوچھ رہی ہوں۔
جواب:۔ کیا آپ مجھے ان سے لڑانا چاہتی ہیں۔

سوال: ۔ اچھا تو پھر کیا ڈرامہ ہے؟
جواب:۔ ظاہر ہے انڈیا پاکستان کو ٹف ٹائم دے گا اور جن قوموں کے بارے میں آپ جو پوچھ رہی ہیں میرے خیال میں ان پر لوگوں کو تحقیق کرنا ہوگا۔

سوال :۔ میں نے پڑھا ہے کہ اگر انڈ یا اور ایران چابہارمیں ایئر پورٹ بنا تے ہیں اور پھر اسے ایران اور افغانستا ن سے ملائیں گے تو پھر پاکستان کے راستے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔ کیا یہ تبدیلی بنائے گی ساؤتھ ایشیاء میں ؟
جواب:۔ پاکستان کہاں ہے ۔یہ صرف طاقتور بین الاقوامی کھلاڑی ہیں ۔

سوال :۔ آپ پاکستان کے وجود کو مسترد کرتے ہیں اور اگر الیکشن ہوتے ہیں اور پھر پاکستان گورنمنٹ کہی گی کہ بلوچ لوگ پارلیمنٹ کے نظام سے راضی ہیں اور ہر ووٹ کی اہمیت ہے جو کہ سیاسی عمل کا حصہ ہے ۔ آپ کیسے سامنا کریں گے ؟
جواب:۔ پاکستان کہتا ہے کہ بلوچ مسلمان اور ہمارے دوست ہیں کیا کسی کے پاس ثبوت ہیںیہ تو وقتی طور پر چل رہا ہے ہم حامد کرزئی کی گورنمنٹ کو دیکھتے ہیں افغانستان میں کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عوام کی گورنمنٹ ہے ۔

سوال :۔ لوگ کہتے ہیں کہ جو پہاڑوں میں ہیں وہ جلد تھک جائینگے کیا واقعی ایسا ہی ہوگا؟
جواب:۔ اگر نوجوان تھک جائیں تو ہم بوڑھے بہت ہی تھک جائینگے ۔چلیں دیکھتے ہیں کیا ہم تھک جائیں گے یا پھر پہاڑوں میں رہ جائیں گے۔

سوال : ۔ اگر اختر مینگل پارلیمنٹ کا حصہ بنتا ہے اور کہتا ہے کہ بلوچوں کے مسائل کا حل پارلیمنٹ میں ہے تو کیا آپ کا رویہ ان کے لئے نرم ہوگا یا پھر سخت گیر موقف ۔ جو کہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے ؟
جواب:۔ بلوچ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ایسے ہی اٹھ کھڑے رہیں گے ، صرف ایٹم بم ہی انہیں ختم کرسکتے ہیں ۔

سوال :۔حل کہاں ہے پہاڑوں میں یا مذاکرات کی میز پر ؟
جواب:۔ مجھے معلوم نہیں اور نہ ہی میں کہہ سکتا ہوں لیکن اگر ہم مذاکرات کے میز پرآتے ہیں اورتحریک اسکے لئے راستہ بناتی ہے تب ہم دیکھیں گے ۔ بہر حال یہ علاقہ بہت ہی ڈسٹرب ہے اور اس علاقہ کو ہم تباہی کا علاقہ کہہ سکتے ہیں کون جیتے گا کون ہارے گا ۔ایران ،چائنا اور افغانستان میں کبھی بھی امن حاصل نہیں کرے گا وہ کبھی بھی اس علاقے میں امن سے نہیں بیٹھے گا۔

سوال :۔یہ کون کرے گا ؟
جواب:۔وہ لوگ جو کہ بلوچستان میں کررہے ہیں ۔

سوال :۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ جو پہاڑوں میں ہیں وہ انہیں کبھی بھی پرسکون راستہ نہیں دینگے؟
جواب میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ہوں ۔

سوال ؛۔آپ نیپ کے ممبر بھی رہے تھے جس پر بعدمیں پابندی لگ گئی تھی اورآپ افغانستان چلے گئے تھے اس کے بارے میں آپ کچھ بتانا پسند کرینگے ؟
جواب:۔ وہ میری پرائمری لائف کے دن تھے ۔

سوال:۔ کیا افغانستان کے بلوچستان میں اثرات ہیں ؟
جواب: ۔یقیناًاثرات ہیں لیکن اب ایران اور افغانستان دونوں بلوچستان کو قید کرنا چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان ، ایران ، سندھ اور تمام جگہوں پر بلوچ قوم کی زمین موجود ہے اورسندھ جس کے بارے میں جی ایم سید نے کہا تھا کہ زمینی سرحدات کے حوالے سے بات نہ کی جائے ۔ ایک دفعہ بالا چ نے بھی کراچی کے بارے میں کہا تھا کہ کراچی بھی ہماری مقبوضہ زمین ہے ۔ لیکن سندھیوں نے کہا کہ سرحدات کو ڈسٹر ب نہ کیاجائے ۔ فی الحال اس موضوع پر خاموشی اختیار کرنے میں ہی اتفاق رائے بہتر ہے ۔

سوال:۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا حل کیا ہے ۔ اور کہاں سے بازیاب ہونگے ؟
جواب :۔ انہیں قبرستانوں سے واپس لایاجائے گا۔

سوال : کون لائے گا۔
جواب:۔ امریکہ کے غلام ۔جو خود کہہ چکے ہیں کہ مہاجر جناح صوبے کا کلیم (claim)کرتے ہیں۔

سوال:۔مثال کے طورپر اگر بلوچستان آزاد ہوتا ہے اور پاکستان تقسیم ہوتا ہے آپ کاکیا خیا ل ہے کہ ریاستوں میں لڑائی شروع ہوگی۔
جواب:۔میرا مطلب ہے کہ سول وار ہوگا۔ جیسا کہ ماضی میں اس براعظم میں دیکھا گیا تھا ۔ جبکہ ہم اس ریجن میں مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔

سوال:۔ آپ کا مطلب سندھی اور بلوچوں کے درمیان ۔
جواب۔ نہیں ریاست اورریاست کے درمیان

سوال:۔ میں کہنا چاہا رہی ہوں اگر کسی طرح پاکستان تقسیم ہوتا ہے اور تمام ریاستیں آزاد ہوتی ہیں جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں ؟ تو کیا وسائل کیلئے جنگ ہوسکتی ہے؟
جواب:۔ ہاں جنگیں اس علاقہ میں ہوتی رہی ہیں تمام بڑے طاقتور کھلاڑیوں کو دوسروں کے وسائل پر اختیار حاصل ہے۔

سوال:۔ آپ کیوں امریکہ پر تنقید کرتے ہیں جبکہ وہ بلوچ جو بیرونی ممالک میں رہتے ہیں وہ ان جمہوری ممالک کے بارے میں نرم رویہ رکھتے ہیں جبکہ آپ مارکسٹسوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ کیا آپ اور ان بلوچوں کے درمیان کمیونیکشن گیپ موجود ہے؟
جواب:۔میں صاف اور سیدھی گفتگو کرتا ہوں آپ جیسے لوگ آتے ہیں مجھ سے بات چیت کرتے ہیں ۔امریکہ اور روس دونوں شیر ہیں اور طاقتور کمزور کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ شیر کبھی چوہے نہیں کھاتا بلکہ چوہوں کو کوئی اور کھاتا ہے۔

سوال:۔ یہاں جنگ ہوگی یا امن
جواب:۔ شاید جنگ اور امن دونوں

سوال:۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ بلوچ لیڈر ترقیاتی کام نہیں کرتے ہیں جبکہ مشرف گورنمنٹ اور پی پی پی گورنمنٹ سے بہت سے فنڈز ملے ۔
جواب:۔ طاقت ور ہمیشہ کمزور کو کہتے ہیں ہم نے انہیں ترقی دی ہوئی ہے وہ ہمیں کمزور بنا رہے ہیں اور کالونیز اور وہ کیوں کالونی بناتے ہیں ہمیں غلام بنانے کیلئے کیا کسی حکمراں نے اپنے گھر سے رقم دی ہے اور کون دیتا ہے ہسپتال اور سڑکیں جو کہ غریبوں کیلئے ہوں۔جب برطانیہ آیا اور انڈیا کو طلائی چڑیا (سونے کی چڑیا) کہا اور لوٹنے کے بعد اسی خطے کی چڑیا کو بغیر بال وپر کہا ۔

سوال : ۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قبائلی لوگ ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں ؟
جواب:۔ قبائلی طاقتور بننے سے پہلے بے یارومددگار ہیں اور یہ ان کے غلام ہیں ایک برطانوی شخص سنڈیمن نے دلال چاہا اور کئی لوگوں نے دلال بن کر ان کی مدد کی ۔

سوال :۔ مہذب دنیا دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن بجائے اسکے کہ دہشت گردی ختم ہو دہشت گرد غیر ریاستی (Non State) ایکٹر ہیں جو کہ مملکت کے کرتا دھرتا سے زیاد ہ طاقتور ہیں کیا وجہ ہے یہ دنیا میں اُبھر رہے ہیں ؟جواب:۔بین الاقوامی طاقتور کھلاڑی چائنا ، روس، یورپ ، امریکہ بذات خود دہشت گرد ہیں اور یہی دہشت گرد بھی پیدا کررہے ہیں ۔

سوال؛ ۔ آپ سعودی عربیہ کے کردار کو کہاں رکھتے ہو؟
جواب:۔ سعود ی بھی تو USAکے غلام ہیں ۔

سوال:۔کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ روس اب بھی خاموش رہے گا جبکہ امریکہ افغانستان میں داخل ہوگیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی ہوئی ہے۔ کیونکہ ماضی میں مجاہدین کے دور میں رشیا کو افغانستان میں شکست ہوئی تھی؟
جواب:۔ مجھے یقین نہیں لیکن میری خواھش ہے کہ روس شاید امریکہ کیلئے مسائل کھڑے کریگا کیونکہ یہ انسانی جبلت ہے۔

سوال :۔ صرف افغانستان ہی کیوں برطانیہ ، روس امریکہ کی محبوب ترین سرزمین ہیں۔
جواب:۔ میں نے سنا ہے کہ یہ افغانستان کے ذریعے گرم پانی تک پہنچنے کے خواہش مند ہیں اور آپ نے سینٹرل ایشیا اور ساؤتھ ایشیا کے نا م لئے ہیں یہا ں کی دولت پر ان کی نظر ہے۔

سوال : ۔ آپ صرف امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں NATOبھی تو طاقتور کھلاڑی رکھتے ہیں یہ امریکہ فوبیہ تو نہیں ؟
جواب:۔(ہنستے ہوئے)ہاں ہمارے بہت سے بادشاہ ہیں لیکن حتمی فیصلہ امریکہ کرتا ہے اس لئے تنقید کرتا ہوں ۔ آپ کیوں بین الاقوامی سوالات کررہی ہیں ؟
(سوال کرنے والی کا جواب) میں آپ کی تنقید یہ سن کر حیران ہو جاتی ہوں جبکہ قوم پرستوں کی سیاست کے لئے نرم گوشہ بین الاقوامی طاقت میں ہوتا ہے کیا آپ اسے مسترد کر دیں گے جب بین الاقوامی طاقتور ملک بلوچوں کو سپورٹ کرتا ہے (لیڈر) جو کہ اب بھی باہر کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں جب کہ بلوچستان کیس بین الاقوامی منظر پر آیا ہے ۔

سوال:۔جبکہ ایک کو تنقید کرتے ہوئے دوسروں کو چھوڑ دیتے ہیں مثال کے طور پر یہاں تمام جاگیردار لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں جبکہ آپ ایک اور صرف ایک کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کیا یہ انصاف ہے ؟
جواب:۔ کیا دنیا انصاف رکھتی ہے آپ مجھے کیوں زحمت دیتی ہیں ہو۔

سوال :۔ تو پھر بلوچوں کو کون سپورٹ کرتا ہے ؟
جواب :۔ آپ کے خیال میں کون اور کون ہوگا۔

سوال:۔ مجھے یہ وجہ معلوم نہیں میں پوچھ رہی ہوں ؟
جواب:۔ کیا میں جھوٹ بولوں یا سچ۔

سوال:۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سچ بولیں گے آپ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے رہنماہیں ہاں ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں شک ہے کہ انڈیا افغانستان میں ہے تو شاید انڈیا سپورٹ کرتا ہے؟
جواب:۔ کیا انڈیا صرف بلوچستان کیلئے ہے ۔ میں قیاس کرتا ہوں انڈیا وہاں پر صرف تجارت اور راستے کیلئے ہے۔

سوال:۔کیا یہ ممکن ہے کہ انڈیا ساؤتھ ایشیا میں چائنا سے زیادہ اختیار حاصل کرے؟
جواب:۔شاید، اگر بین الاقوامی طاقتیں اسکی مدد کریں ۔

سوال:۔انڈیا یا چائنا؟
جواب:۔ میں مارکیٹ جاتا ہوں تو چائناکی چیزیں نظر آتی ہیں ۔ یہی چائنا ہے جو ہمارا سونا بھی لے جارہا ہے اور ہماری پورٹ پر بھی اختیار حاصل کرچکا ہے۔

سوال:۔کیا بھٹو ہمیشہ اس شخص سے برہم رہے جو کہ ان سے متفق نہیں تھے یا پھر صرف ملٹری نے یہ سب لانچ کیا ؟
جواب:۔ یہ بھٹو اور ملٹر ی دونوں نے کیا اور کوشش کی کہ اپنی حکومت کو جائز بنایاجائے ۔ پھر بھٹو نے نعرہ لگایا روٹی کپڑا اور مکان کا اور اس پر کیا عمل کیا ۔ اور اب غریب آدمی باقی نہیں رہے اور بلاول بھٹو زرداری وہ کیا کرچکے ہیں ۔

سوال: ۔ ہم دوبارہ تاریخ کی طرف چلتے ہیں جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے ملٹر ی آپریشن پر تنقید کی جاتی ہے کیا وہ بلوچستان میں آپریشن کرانے پر آزاد تھا؟

جواب:۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن کرنے پر آزاد تھا لیکن وہ بہت چالاک اور ظالم شخص تھا۔

سوال:۔ کیا بھٹو بنگال کے قضیے میں ملوث تھا۔
جواب:۔ میں نے سنا ہے۔

سوال:۔ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ کہ آپ نے سنا ہے۔ آپ اُس وقت ان حالات کا تجزیہ کرتے تھے ۔؟
جواب:۔ حقیقت اور تجزیہ میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ اور انڈیا ہماری مدد کرتا ہے لیکن کس نوعیت کی ہم مدد لے رہیں ؟ ہم غلام نہیں بننا چاہتے ہیں آزادی حاصل کرنے سے پہلے یہ مدد کی قسم نہیں چاہیے ہم زندہ رہیں یا مرجائیں ۔

74720_442437105820231_2096983346_n

سوال:۔ بنگال میں کون ملوث تھا کیا انہیں مجیب کے چھ نکات ہضم نہیں ہوئے یا وہ ناانصافی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے؟
جواب:۔ وہ بنگال کی غلامی کو مزید برقرار رکھنا چاہتے تھے لیکن انڈیا نے انہیں آزاد کرایا۔

سوال:۔ آپ نے آزادی کا لفظ استعمال کیا کیا بنگال غلام تھا؟
جواب:۔ اگر انڈیا نہ آتا تو بنگال کو غلام ہی رکھتے۔

سوال:۔ آپ کیا محسوس کرتے ہوئے ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت جو کہ پاکستان میں ہے ؟
جواب:۔کیا ہمیں پارلیمنٹ کی ضرورت ہے جیسا کہ اختر مینگل کہتا ہے یا کہ ہمیں علاج کی ضرورت ہے انہوں نے ڈکٹیٹر شپ کو قانون بنا کر جائز قرار دیا ان کی پانچ سال کی جمہوریت نا انصافی پر مشتمل ہے ۔ بغیر فوج کے وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں فوج کی اپنی حد ہوتی ہے جو کہ یہاں نہیں ہے ۔

سوال :۔2013الیکشن آپ کے نظر میں ؟
جواب:۔ پہلے وہ ہر حال میں سرمایہ داری کیلئے کام کرنا چھوڑ دیں ۔

سوال :۔ آپ کے فلسفے میں سرمایہ داری کیا ہے ؟
جواب:۔ کوئی اکیلا شخص کسی دوسرے انسان کا غلام نہ ہو۔ اور جہاں کسی کا استحصال نہ ہو۔

سوال:۔ کس فلسفہ کی لمبی زندگی ہوتی ہے تشدد کی یا عدم تشدد کی جیسا کہ ہمارے سامنے مہاتما گاندھی کی مثال ہے ؟
جواب:۔ کوئی شک نہیں مہاتما نے اپنی زمین کو ہموار کیا اورچیزوں کو تبدیل کیالیکن کوئی بھی عدم تشدد بعد میں تشدد میں ہی تبدیل ہوا۔

سوال : ۔ آپ اکبر بگٹی اور عطااللہ مینگل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب :۔ میں نے بگٹی کے ساتھ طالب علمی کا وقت گزاراہے میں عطا اللہ مینگل کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ نہ تو سوشلسٹ ہیں نہ قوم پرست ۔

سوال :۔ پھر وہ کیا ہیں؟
جواب:۔ آپ میرے لئے مسئلہ مت بنا ئیں

سوال :۔ انتہا پسند عناصر ابھر رہے ہیں سندھ اور بلوچستان میں کیا وجہ ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ان کاؤنٹر کے لئے بنایا جارہا ہے ۔
جواب: مجھے معلوم نہیں ،ہوسکتا ہے کہ یہ مقررہ وقت کے لئے بنایا جارہا ہے اور تصادم کے لئے ہو۔

سوال: ۔ آپ سندھ اور بلوچستان کی سیاست کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب:۔ سندھ تعلیم یافتہ ہے مجھے امید ہے وہ زیادہ طاقت ور اور با شعور قوم پرست ہیں ۔جبکہ ہم بلوچ ہمت و حو صلے والے ہیں ۔

سوال:۔ حوصلے کب تک زندہ رہیں گے ؟
جواب:۔ ہم انہیں جگا رہے ہیں ہمارے لوگوں کے پاس حوصلے بہت ہیں ۔ لیکن تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔ صرف ڈگریوں کی نہیں بلکہ سوشلسٹ تعلیم ۔ ہمارے محدود وسائل ہیں لیکن ہمارے جذبات ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

سوال:۔ بلوچستان میں جرنلسٹوں کو قتل کیا جارہاہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے انہیں مار رہے ہیں ۔ میرے پاس کوئی شہادت نہیں لیکن میں حقیقت جاننا چاہتی ہوں؟
جواب:۔ میں قتل کرنے پر یقین نہیں رکھتا اور مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ (اچانک نواب خیر بخش مری کے ایک ساتھی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مسلح دفاع والوں نے جرنلسٹوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے)

سوال:۔ آپ نے کہا کہ مذہبی عناصر نے بینظیر بھٹو کو قتل کیا ۔کیا آپ سوچتے ہیں کہ انتہا پسند اتنے طاقتور ہوگئے کہ وہ کسی کی مدد و تعاون کے بغیر یہ اقدام کرسکیں ؟
جواب:۔ یہ کہنا میرے لئے مشکل ہے لیکن آرمی میں مذہبی انتہا پسند موجود ہیں اور آئی ایس آئی میں بھی ۔ امریکہ نے ان کی مدد نہیں کی لیکن آرمی مذہبی ہے۔

سوال :۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟
جواب:۔ آزادی ، انصاف اور انسانیت

سوال :۔ بلوچستان کی سیاست کیا ہے ؟
جواب:۔ اختر مینگل اور رئیسانی پاکستانی سیاست کو پسند کرتے ہیں اور یہ خود غرض موقع پرست لوگ ہیں ۔کیا جمہوریت ان لوگوں پر بھروسہ کرسکتی ہے اور ان لوگوں کی ضرورت ہے وہ بلوچ جو پہاڑوں میں ہیں و ہی بلوچستان کے لئے کام کرتے ہیں اختر مینگل کہتے ہیں کہ وہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ آگاہ نہیں تھے جب نواز شریف نے دھماکہ کیا ۔ ہم بندوق اٹھا ینگے اگر دوسرے کے پاس بندوقیں ہیں اور اگر کوئی بات کرتا ہے تو ہم بھی بات کرینگے ۔

سوال:۔ بلوچستان اور سندھ کی صورتحال میں کون سبقت لے گا؟
جواب:۔ مجھے امید ہے دونوں مل کر جدوجہد کرینگے اور اپنے مشترکہ مسائل حل کرلیں گے۔

سوال:۔ آپ کہہ چکے ہیں کہ آپ قتل سے نفرت کرتے ہیں لیکن جو پہاڑوں پر ہیں اور جنگ لڑرہے ہیں کیا آپ نہیں سوچتے کہ اب وقت آگیا کہ مسئلہ کا حل سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے؟
جواب:۔ میں بوڑھا آدمی ہوں اور ان کی طرف سے بات چیت نہیں کرسکتا ۔ لیکن کئی دفعہ پاکستان کے حکمرانوں /فوجیوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ۔ نواب نوروز خان اور نیپ کے ساتھ انھوں نے کیا کیا۔وہ قرآن لائے لیکن طاقت کے ظالمانہ ا قدام کو نہ روکا۔ ہم بات نہیں کرینگے ۔ایک جگہ نیلسن مینڈیلا لکھتے ہیں کہ سفید آدمی (انگریز )سے ہم بات کرنا چاہتے ہیں تو انھوں نے یہ فرض کرلیا کہ یہ تو تھک چکے ہیں اور یہ نشانی ہے شکست کی۔ اسی لئے ہم کبھی بات نہیں کرینگے ۔

سوال:۔ آپ لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں ؟
جواب:۔ ہمارے پاس سوائے جنگ کے دوسرا کوئی اور آپشن نہیں ہے ذاتی طور پر میں یقین کرتا ہوں کہ یہ بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔

سوال : ۔ کیا جناح سیکولر تھا؟
جواب: ۔ آپ نے اس کے چھو ٹے بھائی (بھٹو ) کے بارے میں پوچھا تھا اور اب مسٹر جنا ح کے بارے میں۔ آپ اس کے رشتہ دارووں سے پوچھیں مجھے معلوم نہیں ۔

سوال :۔11مئی کو انتخابات ہورہے ہیں ؟
جواب:۔ جو پاکستان کو چاہتے ہیں ووٹ کرینگے اور جو نہیں چاہتے وہ کبھی ووٹ نہیں کرینگے ۔

سوال:۔ 11مئی کو آپ اور بلوچ کیا کرینگے ۔
جواب:۔(مسکراتے ہوئے )آپ زیر زمین معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

سوال :۔ 11مئی کو بلوچستان میں لوگ کیا کرینگے کیا وہ T.Vدیکھیں گے
جواب:۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہو ں کہ بلوچ اپنی زندگیاں دے چکے ہیں اور صرف ان کی وجہ سے بلوچ کو ووٹنگ سے پہلے سوچنا چاہیے میں ان سے کہونگا کہ ووٹ نہیں ۔

سوال:۔ شکریہ
جواب:۔ میں خوش ہوں شکریہ

یہ انٹرویو انگلش روزنامہ “دی فرٹےئر پوسٹ 09-05-2013 کو شائع ہوا جس میں کا مکمل اردو ترجمہ قارئین کیلئے شائع کیا جارہا ہے۔

بلوچ کیوں پاکستانی انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے؟

تحریر : ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ

انگریز کی وضع کردہ قوانین کے تحت نو آ بادیاتی ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس نے انتخابات میں حصہ لیا۔کانگریس کے صدرابوالکلام آزاد کے بقول تمام کانگریسی وزراء ہندوستان allah-nazarکے بجائے انگریزی گورنروں کے زیر اثر رہے اور انہی کی پالیسیوں کو اپنایا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ جہاں کہیں بھی نو آبادیاتی قوتوں نے قوانین بنائے انہوں نے اس نو آبادیات پر اپنے قبضے کو دوام دینے اور اسکے وسائل کے بے دریغ لوٹ کھسوٹ کو قانونی لبادہ پہنایا؟۔ یہی کچھ 1948ء سے لیکر اب تک ہمارے بلوچ وطن میں ہو رہا ہے۔ایک چھوٹے سے گروہ کو شرکت اقتدار (اقتدارِاعلی نہیں)دیکر پوری قوم کو یرغمال بنایاگیا اور اسی مراعات یافتہ گروہ(اشرافیہ)کو قائم و دائم رکھنے کیلئے مقبوضہ بلوچستان میں حالیہ انتخابات بزورِ طاقت کرائے جارہے ہیں ۔مارچ1948ء میں بلوچ قوم کی رضا و منشاء کے برخلاف عالمی قوانین و جغرافیائی سرحدوں کی خلاف وررزی کرتے ہوئے پاکستان نے بزورِقوت بلوچ وطن پر جبری قبضہ کیا اور جبری قبضہ سے لیکر 1973ء تک پاکستان کی آئین ساز پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے ،جس میں بلوچ وطن کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرکے اسے مغربی پاکستان یعنی پنجاب میں ضم کیا گیا۔اور انہی قوانین و آئین ساز اداروں کو بنیاد بنا کر بلوچ فرزندوں کو انہی عدالتوں میں سزائے موت دیکر تختہء دار پر لٹکایا گیا۔ بابو نوروز سے لیکر شہید حمید بلوچ انہی ریاستی اسمبلیوں کے قوانین کی بھینٹ چڑھے،انہی اسمبلیو ں کی قانو ن سازی کے ذریعے بلوچ قوم پر قومی زبانوں کی جگہ غیر زبانوں کو مسلط کرکے بلوچ قوم کی ثقافت کو مسخ کرکے غیر فطری ملک پاکستان کے ساتھ جذب کرنے کی حتی الوسع کوشش کی گئی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ ان تمام قانون ساز اداروں نے قوانین بنا کر انہیں اپنی عدالتوں میں بلوچ قوم کیخلاف ننگی تلوار کے طور پر استعمال کیا اور دہشتگرد پاکستانی فوج انہی اسمبلیوں کی وضع کردہ قوانین کے تحت بلوچ وطن پر خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ پاکستانی فوج کی انسانیت سوز جنگی جرائم کو اسکی عدالتیں انہی قوانین کے تحت جائز قرار دے رہے ہیں۔

بلوچ قومی آزادی کی جنگ عالمی قوانین کے تحت اپنی قومی ریاست کی بحالی کیلئے لڑی جا رہی ہے جو تمام انسانی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنی جنگ آزادی کیلئے تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے،جس میں دشمن کی مسلح و درندہ صفت فوج اور ان کے ڈیتھ اسکواڈکا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم نے عوامی و جمہوری سوچ کے ذریعے اپنی تحریر و تقریر سے دنیا کو باور کرایا ہے کہ بلوچ ایک آزاد و خود مختار ریاست کے حصول کی جدو جہد میں عالمی قوانین کے تحت انسانی حقوق و اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنے مقصد کیلئے لڑ رہی ہے۔ بلوچ قوم سیکولر اور انصاف پر مبنی ایک ایسی ریاست کی تشکیل کیلئے جد و جہد کر رہی ہے جو پوری انسانیت کی بقاء و سا لمیت کی خاطر ہوگی، اور جو مذہبی انتہا پسندی،قومی توسیع پسندی ،حوسِ قبضہ گیری،خطے میں دہشتگردی جیسے انسان دشمن سوچ کیخلاف ایک بفر اسٹیٹ ثابت ہوگا۔ بلوچ کی آزادی کے ثمرات سے نہ صرف یہ خطّہ بلکہ پوری دنیا بہرہ مند ہوگی۔ بلوچ اپنی آزادی کے بعد اپنے قومی وسائل کو بلوچ قوم کی فلاح کیلئے استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے امن پسند قوموں کے ساتھ مل کر ایٹمی، کیمیائی اور بائیولوجیکل جیسے انسان کُش ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے اقوام عالم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
پاکستانی میڈیا اور بلوچستان میں نام نہاد وفاق پرست یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستانی قوانین، اسمبلی و پارلیمنٹ کیخلاف بلوچ آزادی پسندوں کی مخالفت در اصل جمہوریت کی مخالفت ہے۔ ان وفاق پرست قوتوں اور نام نہاد جمہوریت پسندوں کو سمجھنا چاہیے کہ آزادی پسند قوتیں و مزاحمتی تنظیمیں کیونکر ان نام نہاد انتخابات کی مخالفت کر رہے ہیں؛

15a671fc678373f998f27def6642d9071_500۔ پاکستانی خفیہ ادارے انتخابات کے ذریعے چند لوگوں کو منتخب کرواکر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ بلوچ پاکستان کے آئینی اداروں کو مانتے ہیں۔ لہٰذا بلوچستان پر قبضہ بلوچوں کی خواہش پر ہوا ہے اور بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے سامنے یہ جواز پیش کریں گے کہ بلوچستان پر قبضہ جائز ہے۔
2۔ نو آبادیاتی پارلیمان صرف ایسے قوانین بناتے ہیں جس میں مقبوضہ قوم کی جغرافیائی خطے کا بٹوارہ ہو۔ جیسے جیکب آباد (خان گڑھ)، راجن پور، ڈی جی خان کو پنجاب و سندھ میں شامل کرکے بلوچوں کو اُن کی قومی سرزمین سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی قومی زبان و ثقافت کو بھی زنگ آلود کر دیا۔ نو آبادیاتی طرز قوانین کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کو مقبوضہ بلوچستان کے وسائل دے کر انہیں بلوچ قوم کی قومی آزادی کو سلب کرنے کیلئے استعمال کرنا (جیسے رئیسانی و مگسی حکومت بلوچ وسائل کو فوج ، ایف سی و رینجرز کو دے کر بلوچ قوم کی نسل کُشی کر رہے ہیں) اور آئندہ اسمبلی بھی وفاق کے پابند ویسے ہی قوانین بنائیگی جس طرح 1948 سے لے کر2008 کی اسمبلیاں بناتے آرہے ہیں۔

 3۔ ان انتخابات کا مقصد ایک ایسے مراعات یافتہ گروہ کی تشکیل کرنا ہے جو بلوچ جنگ آزادی کیخلاف دشمن کے ایک کالم کے حیثیت سے کام کرے جس طرح سابقہ اسمبلیوں میں اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ہم نے ایف سی اور فوج کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف فوجی آپریشن کرے۔ ہزاروں بلوچوں کا پابند سلاسل ہونا اور ہزاروں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں گرنا انہی نام نہاد اسمبلی ممبران کی کارستانی ہے۔

4۔ بلوچ جہد آزادی کیخلاف قوانین بنا کر زیر زمین موجود بلوچ قومی وسائل کو قبضہ گیر کے حوالے کرنے کا ایک قانونی جواز ڈھونڈنا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ بلوچوں نے اسمبلی کے ذریعے یہ معاہدے کیے ہیں۔ سیندک پروجیکٹ،ریکوڈک معاہدہ،گوادر پورٹ،سوئی گیس فیلڈ،یہ تمام اسکی واضح مثالیں ہیں۔ یہ اسمبلی جمہوریت کے نام پر ایسے قوانین بنائے گی جو قابض ریاست کی بلوچ وسائل کے لوٹ مار کو آئینی جواز فراہم کریں گی۔

5۔قابض ریاست انہی کٹھ پتلی اسمبلی ممبران کو اقوام عالم کے سامنے بلوچ قوم کا نمائندہ پیش کرکے قومی وسائل کی لوٹ مار کو جائز قرار دینے کی کوشش کرے گی۔
لہٰذا مندرجہ بالا نقاط کے پیش نظر آزادی پسند بلوچ قوم نے اس بات کا ادراک کرلیا ہے کہ ہم ان پاکستانی اداروں کا حصہ نہیں بنیں گے اور دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ یہ بلوچ قوم کے نمائندے نہیں ہیں ۔آج بھی بلوچستان کے پچانوے فیصد علاقوں میں ان نام نہاد پارلیمان پسندوں کو بلوچ قوم کی شدید مخالفت کا سامنا ہے اور پوری قوم نے ان نام نہاد پارلیمان پسندوں کو مسترد کیا ہے۔ ایماندار اور غیرجانبدار ذرائع ابلاغ، مہذب و انسان دوست اقوام، عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ ، بلوچ کی قومی آزادی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں اور بلوچستان کو ایک جنگ زدہ خطہ (conflict zone) ڈیکلیئر کریں۔

ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ بلوچستان لیبریشن فرنٹ کے کمانڈر ہیں

(بشکریہ : تنقید )

NO VOTE NO ELECTION WE BALOCH ONLY WANT FREEDOM

تحریر :  انزلنا سمل بلوچ

ﺁﺝ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﺱ ﻧﮩﺞ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﺎ ﮬﯿﮑﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﻌﻮﺭ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﯾﮧ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻏﻼﻡ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻏﺎﺻﺐ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﻧﮯﺑﺬﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﯿﺎﮨﮯ – ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﮯ 942831_449305028495432_1988673795_nﺳﺎﺗﮫ ﺁﺝ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﮨﮯ . ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺍﻥ ﺑﻠﻮﭺ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺟﺎﺗﺎﮬﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﺎﺭ ، ﺁﺭﺍﻡ ﻭ ﺁﺷﺎﺋﺶ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﮑﻦ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺑﻠﻮﭺ ﮔﻞ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ …ﺑﻠﻮﭺ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺪﺍﮰ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻟﮩﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ. ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻠﻮﭺ ﺟﮩﺪ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻗﺪﻡ ﺑﮧ ﻗﺪﻡ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺑﻠﻮﭺ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﮑﮫ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﮕﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺐ ﮬﻢ ﺳﺐ ﺑﻠﻮﭺ ﺑﮩﻦ، ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺑﺎﭖ، ﺑﭽﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﻮﮐﺮ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭨﮭﺎﺋﻨﮕﮯ. ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﯿﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮍﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻟﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺗﻮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﺢ ﮬﻮﮔﺌﯽ . ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﻏﻼﻣﯽ، ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﮩﺪ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﻼﻡ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﮕﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺀﻋﻤﻠﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﻮﺭﯾﻠﮧ ﺟﻨﮕﯽ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﭘﺎﺳﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ …

ﺟﺐ ﮬﻢ ﺳﺐ ﺑﻠﻮﭺ ﺑﮩﻦ، ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺑﺎﭖ، ﺑﭽﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﻮﮐﺮ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭨﮭﺎﺋﻨﮕﮯ. ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﯿﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮍﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻟﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺗﻮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﺢ ﮬﻮﮔﺌﯽ . ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﻏﻼﻣﯽ، ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﮩﺪ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﻼﻡ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﮕﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺀﻋﻤﻠﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﻮﺭﯾﻠﮧ ﺟﻨﮕﯽ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﭘﺎﺳﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ …

ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﻨﮓ ﺟﻮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﯾﺖ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻭﯾﺖ ﮔﻮﻧﮓ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻭﮨﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺷﻌﻮﺭ ﺳﮯ ﻟﯿﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﮩﺮ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﺳﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﻃﻦ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﺟﻤﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ..ﮐﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮬﯿﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﭩﮭﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ ؟ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﮨﻮﮞ،ﺍﯾﮏ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ؛ﻭﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﮯ ﺟﺲ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ، ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﻣﯿﮟ،ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﺁﮒ ﮐﮯ، ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﭼﮭﺖ ﮐﮯ،ﮔﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﮯ ﮐﮯ، ﮐﺌﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﻃﮯﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﭩﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ . ﻏﻼﻣﯽ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﺍﻭﺭ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ….ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ . . ..ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻏﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﭽﮫ ﺯﺭﺧﺮﯾﺪ ﮔﻤﺎﺷﺘﮯ )ﻗﻮﻣﯽ ﻏﺪﺍﺭ( ﺍﭘﻨﯽﺿﻤﯿﺮ ﺑﯿﭽﮫ ﮐﺮ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮞﺘﺎﺭﯾﺦ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮩﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﮕﻼ ﺩﯾﺶ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺫﻟﺖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﯽ ﭘﮍﯼ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺿﻤﯿﺮ ﻓﺮﻭﺵ ﻏﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮨﻮﮔﺎﺁﺝ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻏﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﮐﺴﯽ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﺮﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ؛؛؛

ﺁﺝ ﻇﺎﻟﻢ ﻗﺎﺑﺾ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﻇﺎﻟﻤﺎﻧﮧ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑﻠﻮﭼﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻏﻮﺍ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﮈﺭﻝ، ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﻣﺴﺦ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ _ ﺍﻑ ﺑﻠﻮﭺ ﻣﺎﮞ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﭼﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻻﻝ ﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯿﮕﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﻏﻮﺍ ﮬﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﺦ ﻻﺵ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻻﺵ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﮪ ….. ﮐﯿﺎ ﮬﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﮯ ﻟﮩﻮ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺰﺭﺍﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﯿﮑﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮨﺮ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﻘﻂ ﭼﻨﺪ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﮨﯿﮟ .. ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺴﻠﺢ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ BLA,BLF,BRA ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﻠﻮﭺ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺗﻨﺒﯿﮧ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﺍﺱ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﯿﮟ ﻣﺬﯾﺪ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮧﺩﮬﻨﺲ ﺟﺎﺋﮯ. ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺴﻠﺢ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮐﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﺮﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﻠﻮﭺ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯽ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺩﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺤﺼﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﯿﮑﮧ ﺁﭖﮐﯽ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﻭﻭﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮬﻢ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ، ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ، ﺑﻠﻮﭺ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺮﺯﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ .ﺍﺏ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﻣﺬﯾﺪ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﻨﺪ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ ﮐﺮﺗﮯ .
ﺑﻠﻨﺪ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭘﻨﯽ، ﺧﯿﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ، ﻣﺰﺍﺝ

ﺍﭘﻨﺎ،ﺑﻠﻨﺪ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭘﻨﯽ، ﺧﯿﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ، ﻣﺰﺍﺝ ﺍﭘﻨﺎ؛؛؛
ﻧﮧ
ﮈﮔﻤﮕﺎﺋﮯ ﻗﺪﻡ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻭﻗﺎﺭﺍﭘﻨﺎ “.

مکران میں ناممکن الیکشن

(میرک جان)
کران بھر میں الیکشن مہم ماند،سیاسی ہلچل صرف گاغذات کی نامزدگی تک محدود رہ گئی،متحرک مزاحمتی تنظیموں کی اچانک پر اسرار خاموشی بھی خوف کا باعث بن گئی ،معروف سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان تو کردیا ہے اور اپنے امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کی ہیں مگر سیاسی سرگرمیاں کہیں دکھائی نہیں دے رہی ،مکران میں مزاحمتی تنظیموں کی کچھ دن قبل سرگرمیوں کے بعد اچانک خاموشی نے ماحول کو مذید حیرت ذدہ کردیا ہے ،جنرل الیکشن2013میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے مرحلے کو بخوبی سر کرلیا اور اپنے امیدواروں کو نامزد کر کے ان کے نامزدگی کاغذات بھی جمع کرادیئے مگر ان سب کے باوجود گوادر سمیت کیچ اور پنجگور میں الیکشن کی روایتی سرگرمیاں کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں مکران کے تینوں اضلاع میں الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی بلند وبانگ دعوؤں کے برعکس ایک خوف کا ماحول موجود ہے جسے سب محسوس کررہے ہیں بی ایل اے،بی آر اے اور بی ایل ایف سمیت بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے الیکشن کے اعلان سے قبل اور کاغذات نامزدگیاں داخل کرانے سے پہلے مکران بھر میں پر اسرار طور پر پہلی مرتبہ کھل کر الیکشن مخالف مہم چلائی اور مختلف مزاحمتی تنظیموں کے مسلح افراد خود چل کر الیکشن کے خلاف سرعام پمفلٹ تقسیم کرتے رہے اور کئی علاقو ں میں باقاعدہ عوام کوجمعکر کے ان سے الیکشن کے خلاف خطاب کیا وہ حیران کن تھا جس سے پارلیمنٹ مخالف جزبات رکھے عوام میں الیکشن کے بارے ڈر اور خوف کا ماحول مذید گہرا ہوگیا جوں ہی الیکشن کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تو امیدواروں کا اعلان اور کاغذات نامزدگیاں جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا گراؤنڈ پر متحرک زیر زمین تنظیموں کی سرگرمیاں بھی یک لخت خاموش ہوگئیں ۔عام ووٹرز،متحرک سیاسی کارکنان اور دبے الفاظ انتخابی امیدوار بھی متحرک سرگرمیوں کے دوران اس اچانک اور پر اسرار خاموشی کو ایک خاص حکمت عملی سمجھ رہے ہیں اور گہرائی سے اس کا مشاہدہ کرنے لگے ہیں عام عوام انتخابات میں پہلے ہی کوئی معمولی دلچسپی بھی نہیں دکھ رہی تھی مگر اب وہ لوگ جو الیکشن کے لئے پہلے کافی سرگرم اور پر جوش تھے وہ بھی مزاحمتی تنظیموں کی خاموشی کو حکمت عملی سمجھ کر چھپ رہنے میں عافیت ڈھونڈ رہے ہیں ۔واضح ہوکہ مکران میں الیکشن کے لئے کوئی سازگار حالات تو نہیں تھے لیکن سرکاری سطح پر حساس پولنگ اسٹیشنز میں فوج کو تعینات کرنے کے اعلان سے لوگ مذید ڈر،خوف اور پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں کیوں کہ مکران بھر میں فی الحال کوئی نارمل پولنگ اسٹیشنز نظر نہیں آرہی جہاں الیکشن سو فیصد پر امن اور ایک خاص ریشو سے انجام پزیز ہوں اور اگر پورے مکران میں فوج کو الیکشن کے لئے تعینات کردیا گیا تو امکان ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد جو چند لوگ ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے وہ بھی پولنگ اسٹیشنز کے لئے نہیں نکلیں گے ،مزاحمتی سرگرمیوں اور مکران بھر میں آزادی پسند سیاسی کارکنوں کی اغواء و مسخ لاشوں کے بعد پارلیمنٹ کے خلاف عمومی نفرت پائی جاتی ہے عام طور پر لوگ پارلیمانی جماعتوں کو مسخ لاشوں اور سیاسی کارکنوں کی اغواء کا بلواسطہ زمہ دار سمجھتے ہیں اب جبکہ الیکشن کا علان کردیا گیا ہے اور انتخابی امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کردی گئی ہیں تو ایک انتخابی ماحول بھی پیدا ہونا چاہیے تھا لیکن اس مرتبہ اس کے برعکس ہے الیکشن کے حوالے سے نہ صرف عوامی سطح پر کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی بلکہ خود الیکشن میں حصہ بننے والی جماعتیں بھی روایتی جوش و خروش نہیں دکھارہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مکران میں اگر الیکشن ہوبھی گئے تو امکانی طور پر بہت خطرناک بلکہ خونی الیکشن ہونگے کیوں تمپ ،مند،تربت،پنجگور ، گوادر اورپسنی اس وقت خون میں نہلا رہے ہیں صرف سیاسی لیڈروں کو چھوڑ کر عام طبقے کا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جہاں ایک مسخ لاش نہیں پہنچا یا کوئی فرد اغواء نہ کیا گیا ہوسیاسی جماعتوں کی تمام تر دعوؤں کے باوصف عوامی نفرت کا برملا اظہار فروری کے مہینے بی این ایف کے زیر اہتمام الیکشن مخالف ہزاروں نفوس پر مشتمل ایک عظیم الشان ریلی کی صورت تربت میں نظر آیا جس میں نہ صرف مختلف عمر کے مرد شریک تھے بلکہ ریلی کا بڑاحصہ خواتین پر مشتمل تھا جو صرف اور صرف انتخابات اور پارلیمنٹ سے نفرت کا واضح اظہار لئے ہوئے تھا ۔الیکشن کے حوالے سے ایک جانب عوامی نفرت،دوسری طرف بی این ایف کا الیکشن مخالف کامیاب مہم اور تیسری طرف مزاحمتی تنظیموں کا الیکشن کو کسی بھی قیمت پر مکمل سبوتاژ کرنے کا کھلم کھلا اعلان اور اوپن سرگرمیوں کے بعد اچانک خاموشی اپنے پیچھے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ایسے میں اگر الیکشن فوج کی نگرانی میں بزور قوت کرائے بھی گئے تو بہت ہی خونی اور خطرناک ہونگے ۔

قومی تنظیم بی ایس او آزاد

شہباز بلوچ
cartoonمیرے خیال میں بغاوت وہ کرتا ہے جو عقل اور شعور و آگاہی رکھتاہے‘‘۔یہ الفاظ ہے دلائی لامہ کے،ان الفاظ کو لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پوری ریاستی مشینری با لعموم اور نام نہاد بلوچ قوم کے ہمدرد با لخصو ص اس غم میں لاغر ہو رہے ہیں کہ بلوچ قوم کے نوجوانوں کو تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ کو ن کافر اس بات سے انکار کرسکتاہے کہ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔یہ بات کہتے ہی اگلے سانس میں ایک طوفان بدتمیزی کا سماں ہوتاہے اور انکی شیطانیت سامنے آجاتی ہے جب وہ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ بی ایس او آزاد نوجوانوں کو جذباتیت کی طرف لے جارہاہے، جو نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے ریاست کے باغی بنارہی ہے جو عالمی سامراجیت کے چوکیدار اور قبضہ گیر ریاست سے ٹکراتے ہیں،اور شاید بے شعور لوگ ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر قبضہ گیر ہر جگہ اپنے قبضہ کو دوام دینے کے لئے اس طرح کے سامراجی دلائل ہر جگہ پیش کرتاہے۔لیکن دوسری طرف جو حقیقی دانشور اور مفکر ہوتے ہیں ان کے خیال میںیہی لوگ ہی دراصل معاشرے کو عقل و شعور والے لوگ ہیں اور انہی لوگوں میں سماج کو بدلنے کی طاقت اور شعور ہے۔
ایک قبضہ گیر گروہ کی طریقہ تعلیم کو اور ایک انقلابی تنظیم کے طریقہ تعلیم کو ایک دانشور ان الفاظ میں پیش کرتاہےعام طور پر یہ کہاجاتاہے کہ وڈیرے ،سردار اور جاگیردار ملکی وسائل پر قابض اور تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں’’وہ دراصل دو برابر دو جمع چار والی تعلیم کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ وہ ایسی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں جو صیح وقت اور صیح مقام پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیداکرتی ہے‘‘پاکستان اور اسکے دلال اولذکر تعلیم کی بات کرتے ہیں اور بی ایس او آزاد آخر الذکر کی بات کرتاہے جو نوجوانوں کو اس استحصالی گرو ہ کے خلاف نظریاتی تعلیم سے لیس کررہاہے۔جو بلوچ نوجوانوں کوبلوچ قوم کی اسکی محرومی، محکومی ،غلامی اور اس استحصالی گرو ہ کے خلاف سوال اٹھانے کی ترغیب دیتاہے اور ساتھ ساتھ ان کے خلاف لڑنے کی تعلیم بھی دیتاہے۔اس کے علاوہ بی ایس او آزاد نوجوانوں کو اپنے تحریرو ں ،تقریروں،پمفلٹ اور دوسرے ذرائع جیسے اخبارات ،تنظیم کے اپنے رسالے اور تربیتی سیریز کے ذریعے بلوچ قوم کی تاریخ،تہذیب ،رسم و رواج ،بلوچی و براہوئی زبانوں سے محبت کی تعلیم دیتاہے اور ان سے آگاہ کرتاہے۔جبکہ دوسری طرف یہ سامراجی پھٹو اور اسکے دلال ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ کی تاریخ ،تہذیب ،رسم و رواج اور زبانوں کو مسخ کر رہے ہیں۔بلوچ نوجوانوں کو اپنے ہی زبان اور رسم و رواج سے نفرت کرناسکھارہے ہیں آج بھی بلوچ معاشرے میں ایسے ڈاکٹر وں،انجنئیروں اور دانشوروں کی بہتات ہے جنہوں نے اردو اور انگریزی زبانوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے جو بلوچی و براہوئی زبانوں کو اپنے لیئے باعث شرم خیال کرتے ہیں۔
اپنی ہی مقدس روایات رسم و رواج سے نفرت کرتے ہیں جن کا پوری دنیا قائل ہے لیکن وہ پنجابی جیسے غیر مہذب گروہ کو اعلیٰ سمجھتے ہیں طارق علی پنجاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’یہ گزرگاہ(پنجاب)ایک طوائف کی طرح رہاہے،جسے مہذب ہونے کے ساتھ ساتھ شمال کے ان مردانگی سے بھر پور وحشیوں کاا نتظار ہنے لگا ،پنجاب سے لکھے جانے والے دعوت نامے اسی انتظار کی کیفیت کا پتہ دیتے ہیں۔آج جب پنجاب کی خوشحال اور متوسط طبقوں کی خواتین تیزی سے پردہ پوش ہو رہی ہیں اور مرد داڑھی سے مزین ہورہے ہیںیہ ان مرد ان کی غیرت مندی کانتیجہ ہیں‘‘اس بحث کو یہاں چھوڑکر میں صرف ان نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں سے یہ کہونگا کہ وہ ذرا یہ سوچھے کہ وہ کس گرو ہ کی تقلید کررہے ہیں؟اور کیا یہ جہالت کی انتہا نہیں؟
نظریات ،انداز فکر،روایات ،جذبات سرزمین کی خصوصیات سے جنم لیتے ہیں ایسی خصوصیات جو انسانوں میں اجاگر ہونی چاہیے۔آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ نوجوانوں کو ان سے محروم رکھا جارہاہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد محب وطن ہونے کے تقاضوں کو پوراکرنا ،انسانی شخصیت کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالناجس میں جذبات و احساسات کی شدت کا بہترین احساس کے تحت احساس ہو اور غیر متوازی اور ادھوری شخصیت کا کوئی بھی عنصر پھل پھول نہ سکے ۔ جب تک تعلیم میںیہ سپرٹ پیدا نہ ہوگی ،بے حس لاشوں کی ذہن میں علم ٹھونس دینا کسی بھی نتائج کا باعث نہیں ہوتا۔
آج بی ایس او آزاد بھی اس کوشش میں ہے کہ بلوچ نوجوانوں میںیہ خصوصیات پیدا ہوں۔وہ بنیاد پرستی ،فرقہ پرستی،قبیلہ پرستی اور آپسی رنجشوں کو بھلا کر عظیم مقصد آزادی کیلئے یکجا ہوجس میں ان کی فلاح اور ترقی ہے۔اس لئے بی ایس اور آزاد آج ریاستی اداروں اور اسکے دلالوں کے لئے دردسر بناہواہے تو دوسری طرف بلوچ قوم کی ورنا اس تنظیم کے کارکن ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔بی ایس او آزاد نوجوانوں کی علمی اور نظریاتی تربیت کے باعث دنیا بھر میں بلوچ اس تنظیم میں شامل ہورہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ عالمی سامراج کے پھٹو پاکستان ،اسکے ریاستی ادارے اور اسکے مقامی دلال ،یعنی شفیق اور سراج جیسے بلوچ ایک طرف تو ان نوجوانوں کی لاشوں کو مسخ کررہے ہیں تو دوسری طرف یہ پرپیگنڈہ کر رہے ہیں تاکہ بلوچ نوجوان بدظن ہویہاںیہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف تو بلوچ نوجوانوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کے لاشوں کو اس طرح مسخ کرتے ہیں تو دوسری طرف مہر و محبت کا یہ سلسلہ کہ بلوچ نوجوانوں کے تعلیم کیلئے بے چین ،، چہ معنی دارد‘‘۔
اس بات کا جائزہ بھی لینے کی ضرورت ہے کہ بلوچ نوجوان ہی ہر طرف سے ٹارگٹ کیوں ہے؟ارشد محمود جو بائیں بازو کا دانشور ہے ،وہ کہتے ہے کہ ’چونکہ زمانہ شباب فطری طور پر حسن سے منسلک ہے اور جدید زمانے کا نمائندہ بھی ،لہٰذا تاریک قوتیں سب سے پہلے نوجوانوں سے خوفزدہ ہوتی ہے ۔چنانچہ نوجوانوں کو مختلف النوع مقدس نعروں کے فریب دے کر بنیاد پرست اور فرقہ پرسے تنظیموں میں پھانس لیا جاتاہے تاکہ معاشرے میں فطرت نوجوانوں کی شکل میں تبدیلی کی جو بیج پیدا کرتی ہے انہیں ٹھکانے لگادیے جائے اور یہی نوجوان زندگی کی راہوں میں تھوڑا سا آگے جاکر بو ڑی قدروں کی محافظ بن جائے ۔تاریک قوتوں کا مقصد یہ ہوتاہے کہ معاشرہ جہالت کی تاریکی سے نکلنے نہ پائے‘‘۔
اس لئے آج پوری پاکستانی مشینری اور اسکے دلال اسی کوششوں میں مصروف ہے کہ بلوچ نوجوان بنیاد پرست اور فرقہ پرست بن جائے اور بلوچ قومی آزاد ی کے مقدس کاز کو مذہبی رنگ دے کر ناقابل تلافی نقصان bso azad 800پہنچایاجائے جس طرح کشمیر کی جنگ آزادی کو پاکستان کے نام نہاد مجاہدین نے مذہبی رنگ دے کر بدنام اور ناکام کردیا۔بی ایس اور (آزاد) انہی قوتوں سے بلوچ نوجوانوں کو بچانے کی کوشش کررہاہے اور علمی اورسیاسی محاذپر ان سے بر سر پیکارہے ۔بی ایس اور (آزاد)ہی وہ تنظیم ہے جس نے ڈاکٹر اللہ نظر جیسے کئی عظیم لوگ پیداکئے اور جہاں تک دوسری طریقہ تعلیم کی بات ہے جو قبضہ گیر محکوم قوموں کے لئے وضع کرتی ہے اس کا مقصد ان کو تعلیم یافتہ بنانا نہیں بلکہ قبضہ کیئے گئے علاقوں میں جو ٹوٹا پھوٹا نظام ہے اس کو چلانے کے لئے چپڑاسی ،ماسٹر یا زیادہ سے زیادہ کلرک پیدا کرے ۔اس قسم کے تعلیم کے بارے میں نہرو ہندوستانیوں کے لئے اصطلاح کلرکوں کی قوم کا استعمال کیا.

“رحمت شاہین” ایک گمنام جہد کار”

تحریر :شیرباز بلوچ
آذادی ایک مقدس دیوی ہے اس سے محبت تو سبھی کرتے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ ہوتےہیں جو اس کو پانے کے لیۓ اپنی زندگی ہتھیلی پہ رکھ کر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیۓ اس پر کٹھن 579175_132959790217019_184387285_nراستے کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیکہ وہ غلامانہ زندگی کو ہمیشہ کے لیۓ دفن کرکے آذاد زندگی سے پرلطف ہوسکے جو غلامانہ زندگی میں دور دور تک اس کا وجود نہیں ملتا. اس مشکل و کٹھن سفر میں احساس غلامی رکھنے والے اپنے دھرتی کے مٹی سے بندھے ھوتے ہیں وہ اس جہدء سفر میں آخری سانس تک جڑے ہوتے. تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو شاید ایسا کوئی دن گزرا ہوگا جو کسی بلوچ شہید کی برسی کا دن نہ ہوں . لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ھیکہ مادرء وطن کے حقیقی فرزند اپنے ماتھے پر گماشتوں کے ریپ ، اپنوں کی عیش و عشرت اور عزت و ناموس کی للکار کو برداشت کرنے کے بجائے سر کٹوانے کو ترجیح دیتے ہیں. اور جب سر زمین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے فرزند پوری طرح حرکت میں آچکے ہیں اور غیور فرزند اپنے مادر وطن کی حفاظت کے لیۓ گماشتوں اورقبضہ گیروں کے خلاف برسر پیکار ہیں . شہداء کے خون کے لہو کو خوشبو میں بدلنے اور روح کو تسکین دینے کے لیۓ خون کی چشموں کی روانی میں تیزی آجاتی ہے. موسم خزاں آنے کے باوجود درخت نازک کلیاں نکال کر شہداء کے لیۓ نچھاور کراتی ہیں.
دھرتی کی مٹی شہداء کے لہو کو چمکانے اور آنے والی نسلوں کو آجوئی کاپیغام دینے کے لیۓ اپنی طاقت سے کئی زیادہ جاں فشانی سے ہر خطرے کا مقابلہ کررہے ہوتے ہیں، اب بلوچ گل زمین کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس کے غیرت مند فرزند اپنے جانوں کی بازی لگا کر اسے دشمنوں کی غلامی سے آذاد کرانے کے لیۓ پوری طرح متحرک ہیں.
بولان کی دھندناتی خوشگوار ہوا شہداء کے لہو کی خوشبو قوم کے گھروں ، گدانوں، گلیوں سے بوڑھے، بچے، جوان، مرد و خواتین نکل کر احتجاجوں سے بلوچ قوم کے جہد ء آجوئی کو رنگ لانے کی صدا کررہی ہے.
ایسی خوبصورت شب ہے اور پر سکون رات کے اس لمحے ہر طرف خاموشی ہے عیش و عشرت کے پجاری مسرور نیند میں مدہوش ہیں، پرندے رات کے اس لمحے خود کو بے زبان کیے ہوئے ہیں لیکن سرخ سلام ان جوانوں کو جو اپنے مادر ء وطن کی رکھوالی کے لیۓ سکھ چین کو ٹھکرا کر وطن پر فدا ہونے کے لیۓ بے تاب اور جہدء آجوئی کو جاری رکھے ہوۓ ہیں.
اسی طرح بلوچ گل زمین کا ایک گمنام فرزند شہید ء بولان سنگت رحمت شاھین ایک غریب گھرانے رئیس کیچی خان بنگلزئی بلوچ کے گھر اپریل 1975 مقبوضہ بلوچستان اسپلنجی میں آنکھ کھولی. ابتدائی تعلیم پرائمری تک گاوں کے ہائی سکول اسپلنجی سے مکمل کی. پھر ان کا خاندان ذریعہ معاش تلاش کرنے اسپلنجی سے نکل مکانی کرکے وادی ء بولان کے شہر مچھ کا رخ کیا. شہید نے مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیۓ ہائی سکول مچھ میں داخلہ لیااور میٹرک تک ہائی اسکول مچھ میں زیر تعلیم رہے اس کے بعد شہید نے مزید تعلیم حاصل کرنے کیلیۓ کچھی کے علاقے بھاگ شہر کا رخ کیا. اور انٹر کالج بھاگ سے انٹرمیڈیٹ پاس کی.اور اس کے بعد آخر تک وپڈا میں ملازمت سے منسلک رہے.
شہید کو بچپن سے مطالعے کا بہت شوق تھا وہ مختلف رسالوں اور کتابوں سے تاریخ اور شاعری جمع کرکے ان سے سیکھتا رہتا تھا. جونہی وقت گزرتا گیا وقت و حالات نے شہید کوقوم و وطن کے غلامی کا احساس دلاتےہوئے دھرتی کے ھمدردوں کے صفحوں میں شامل کردیا. اور شہید نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بی.ایس.او کے پلیٹ فارم سے کرتے ہوۓ ہر نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنی جدو جہدکو جاری رکھتے ہوئے بلا خوف و خطر ایک انقلابی استاد کی احثیت سے بلوچ نوجوانوں میں شعورء آذادی کواجاگر کرتا گیا مختلف بلوچی میگزین میں مختلف فرضی ناموں سے آرٹیکل لکھتا رہا اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران شہید رحمت شاہین کی ملاقات شہید مزارء بلوچ استاد حمید شاہین و شہیدء آجوئی علی شیر کرد سے ہوئی اور یہ فکری دوستی پروان چھڑتے ہوئے ساتھ مل کر بلوچ قومی فوج بی.ایل.اے کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا .
جدوجہد کرتے ہوئے شہید نے ایک عظیم مقام حاصل کی جو ریاست کے مقامی گماشتوں کے لیۓ موت کا سبب بنتا رہا جنہوں نے قابض ریاست کی ایماء پر شہید کو زیر کرنے کے لیۓ ہزاروں ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہوۓ پہلی شہید کو 8 دسمبر 2009 کو ڈیوٹی پر جاتے ہوۓ مقامی گماشتوں کی کاوشوں سے مچھ پولیس نے یہ کہہ کر اٹھا لیا کہ ایس پی نے آپ کو طلب کیا ہے شہید پولیس وین میں بیھٹے 10 منٹ کا فاصلہ طے کرکے ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کرخفیہ اداروں کے حوالے کردیا.
وہاں شہید رحمت شاھین پر بے رحم تشدد کا نشانہ بناتے رہے. پھر ان کی صحافی دوستوں کی شدید احتجاج کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکاروں ان پر کئی بے بنیاد کیسز لگا کر سبی کے جیل میں زندہ لاش بنا کر ڈال دیا.625587_132231880289810_1169137293_n جہاں وہ 4 ماہ جیل میں قید کاٹ کر ریاست کے گماشتوں کو بدنامی نصیب ہوتے ہوۓ کچھ نہ ثابت ھونے کے بعد رہا ہوئےاور بلوچ نوجوانوں نے شہید رحمت شاھین کی رہائی پر ان کا ولوانہ استقبال کے بعد انھیں اپنے ساتھ ان کے گھر لے آئے وقت گزرتے گزرتے ریاستی گماشتوں پر شہید کی موجودگی سے زمین تنگ ہونے لگی آخرکار قابض کے درندوں نے پھر 3 مارچ 2011 کو کچھی بھاگ سے آتے ہوۓ ڈھاڈر کے مقام پر سینکڑوں کی تعداد میں تعاقب میں ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انھیں اس کے ایک رشتہ دار شہید عبدالرسول کے ھمراہ اغوا کرکے لے گئے اور پھر 1 اپریل 2011 کو شہید سنگت رحمت شاھین کی گولیوں سے چھلنی لاش کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے ملی اور اسے ھمدردوں نے قومی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاوں اسپلنجی میں سپرد گل زمیں کردیے.
آج رحمت شاھین ہم سے جسمانی طور پر تو جدا ہے لیکن ان کا نظریہ، فکر ء آجوئی ھر دل میں دھڑتا ہیں.اور بولان کے پہاڑوں میں گونج رہا ہیں۔

“نقلابی کارکن کی شناخت”

تحریر : خاکی جویو

انقلابی کارکن کشادہ دل اور وسیع الذہن ہوتا ہے ۔ مخلص اوایماندار ہوتا ہے وہ جدوجہد سے نہیں کتراتا ، انقلابی مفادات کو اپنے مفادات ،سمجھتا ہے اور اپنے مفادات کو انقلابی مفادات کے زیر طابع رکھتا ہے ۔وہ ہر وقت اور ہرجگہ انقلابی اصولوں پر ثابت قدم رہتا ہے اور غلط رجحانات ، خیالات اور عمل کے خلاف انتھک جدوجہد کرتا ہے تاکہ تنظیم کے اجتماعی مفادات کو مضبوط کرسکے وہ تنظیم اور عوام کے مابین ذرائع کو مضبوط بناتا ہے ۔ انقلابی کارکن کسی فرد واحد سے زیادہ تنظیم اور عوام کے مفادات کو اہم سمجھتا ہے اور اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کاخیال رکھتا ہے ۔

وہ جانتا ہے کہ صرف اسی طرح ہی وہ حقیقی انقلابی کارکن بن سکتا ہے ۔ ہر انقلابی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے قول اور فعل کے ذریعے عوام کی اکثریتی مفادات کو اولیت دیتا ہے یا نہیں ؟ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے یا نہیں ؟ ایک انقلابی کارکن کو ہمہ وقت ہر جگہ اپنے مفادات کو قوم اور عوام کے مفادات کے تابع رکھنا چاہیے ۔ خود غرضی ، لالچ ،سستی ،کاہلی ،بداطواری ،بداخلاقی اور خودپسندی ایسی باتیں ہیں جو قابل نفرت اور قابل حقارت ہیں ۔ بے لوث ہوکر عمل کرتے رہنا ، انتھک جدوجہد اور عوامی مفادات اور کام کے لیے دل و جان سے وقف کردینا یہ ایسی باتیں ہیں جو قابل احترام اور لائق عزت اور محبت ہیں ۔

انقلابی کارکنوں کو ہمیشہ سچائی اور صداقت کی سربلندی کے لیے برسرپیکار رہنا چاہیے کیونکہ ہر سچائی اور صداقت عوامی مفاد کے لیے ہوتی ہے اور انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو غلطیوں کی اصلاح کے لیے خود ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہر غلطی عوامی مفاد کے ٹکرائو میں ہوتی ہے ، انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو ہمیشہ معاملات اور مسائل کے اسباب و علت کی چھان بین کرنی چاہیے اور اپنی عقل و دانش کو برائے کار لانا چاہیے ۔ انہیں اس بات پر بطور خاص توجہ دینی چاہیے کہ وہ جو باتیں کہہ رہے ہیں آیا وہ حقائق سے میل کھاتی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان باتوں کی کوئی ٹھوس بنیاد ہے بھی یانہیں ؟ انہیں اس سے برعکس باتوں کی بند آنکھوں پیروی کبھی نہیں کرنی چاہیےاور ہر قسم کے ملازمانہ اور غلامانہ ذہنیت کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے ۔ انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو ہمیشہ مجموعی قومی مفاد کو اولیت دینی چاہیے ۔ انہیں خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہر تنظیمی ممب کام کی ہر شاخ اور ہر قول و فعل کو پوری تنظیم کے مفاد کے تابع رکھنا چاہیے اور اس اصول کی خلاف ورزی کی کسی صورت اجازت نہیں دیں ۔ انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ دانش و

انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو عوام کی اکثریت سے الگ ہوکر جلد بازی میں آگے بڑھ کر چند ترقی پسند گروہوں کی رہنمائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے بلکہ انہیں ترقی پسند گروہوں اور عوام کے مابین نزدیکی روابط پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ انقلابی کارکن بیج کی مانند ہوتے ہیں اور عوام زمین کی طرح ، اس لیے عوام سے نزدیکی رابطہ ان سے میل جول رکھنا اور ان میں گھل مل جانا ضروری ہے اس کے لیے ان میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ہر معاملے میں عوام سے رابطہ کرسکیں ، اگر انقلابی کارکن کمروں میں بیٹھ کر جمائیاں لیتے رہے تو طوفان سے ٹکرا کردنیا کا مقابلہ نہیں کر پائے گے ۔ یہ طوفان دراصل عوامی جدوجہد کا طوفان ہوتا ہے اور دنیا دراصل عوامی جدوجہد کی عظیم دنیا ہوتی ہے ، انقلابیوں کی کردار زبردست اور مثالی ہوتی ہے اس لیے پارٹی کارکنوں کو ہر حال میں بہادری سے اپنی جنگ جاری رکھنی چاہیے اور پارٹی احکامات اور ضوابط کی پیروی کرنی چایہے ، انہیں سرگرمیوں کے دوران تنظیم کے اندرونی اتحاد اور استحکام کو مقدم رکھنا چاہیے ۔

انقلابی کارکنوں کو کبھی خودخیال اور خود پسند نہیں ہونا چاہیے ، انہیں کبھی بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہی عقلِ کل ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ خود کو اپنے کمرے تک محدود کردیا جائے بلکہ صرف یہ ہے کہ انہیں خودستائی یا پھر اپنے منہ میاں مٹھو نہیں ہونا چاہیے ۔ کارکنوں کو دوسروں کے خیالات دھیان اور توجہ سے سننے چاہیے اگر ان کا نقطہ نظر غلط ہو تب بھی ان کی بات کو مکمل طور پر سنا جائے اور اس کے بعد انہیں صبر و تحمل سے سمجھانا چاہیے ، جو اپنے کام غلط طریقے سے کررہے ہوں انہیں سمجھانا چاہیے لیکن ٹوکنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرسکے کسی غلطی پر انہیں ایک دم تنظیم سے خارج کردینا غلط ہے بلکہ انہیں اپنی غلطی کی اصلاح کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے ۔ جو دوست سیاسی جانکاری کے معاملے میں کمزور ہوں انہیں حقیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ دوستی کرکے ان کو قائل کرنا چاہیے اور انہیں تربیت دی جانی چاہیے انہیں آگے بڑھنے میں مدد فراہم کی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔

عزیزچینی ماوں کے نام! 27 مارچ یوم سیاہ

تحریر : پروفیسر نائلہ قادری بلوچ   (صدر ورلڈ بلوچ ویمنز فورم)

بلوچ ماوءں کے احساسات آپ تک پہنچانے کے لٗیے یہ تحریر میں گہرے دکھ او ر درد دل کے ساتھ لکھ رہی ہوں، ماؤں کے دکھی دلوں کی بات ماؤں کے حساس دل کم الفاظ میں بھی بہت آسانی سے سمجھ لیتے ہیں،ہمارے چودہ ہزار بیٹے بیٹیاں پاکستان اور ایران کی افواج کے ہاتھوں لاپتہ ہیں، پچھلے دو سال کے دوران ہم نے لعل و جواہر جیسے ایک ہزار بیٹوں کی لاشیں وصول کی ہیں جن کے خوبصورت محبوب بدن بدترین تشدد کے زخموں سے چھلنی تھے یہ سلسلہ ہر روز جاری ہے، بمباری ، گھروں میں زندہ جلائے جانے، پینے کے پانی میں زہر ملائے جانے، خوراک و ادویات کی ترسیل پر پابندی کی وجہ سے ہماری معصوم خواتین اور بچے ہر روز موت کا سامنا کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جان کر آ پ کو دکھ ہوا لیکن مزید جان کر آپ کو جھٹکا لگے گا کہ یہ سب چین کے کہنے پر اور مکمل مدد کے ساتھ کیا جارہا ہے۔

ہم چینی عوام کا احترام کرتے ہیں اور ابھی تک آپ سے اچھی توقعات رکھتے ہیں کیونکہ چیرمین ماؤ کی عظیم قیادت میں چین دنیا کی ان اقوام میں شامل ہوا جو اعلیٰ انسانی اقدارکا احترام و آزادی جیسے بنیادی انسانی حق پر یقین رکھتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ چینی حکومت کا کردار ان خصوصیات سے برعکس ثابت ہوا،شایْد آپ جانتی ہوں کہ بلوچستان کادنیا بھر کی انسانی تہذیبوں کے لئے درجہ ماں کا ہے، مہر گڑھ بلوچستان آج سے گیارہ ہزار سال پہلے بلوچ کرد ماؤں نے جنم دیاجہاں دنیا کا پہلا پہیہ، پہلی فصل کی کاشت، پہلی جیومٹری، پہلی کیمسٹری، پہلی گھڑی، پہلا کیلنڈر، پہلی تحریر اور کئ ایجادات وجود میں لائی گئں لیکن اگر کوئ چیز نہ بنائی گئ وہ ہتھیار تھے کیونکہ ماؤں کے سماج میں تخلیق کی اہمیت تھی اور تخریب کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی، بلوچ کرد عورتوں کی یہ عظیم تخلیق ساری دنیا کی عورتوں کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ انیسویں صدی میں برطانوی سامراج نے بلوچستان پر قبضہ کو دوام بخشنے کے لئے تین حصوں میں تقسیم کیا اور ایران، افغانستان میں شامل کیا۔بلوچستان کا آخری آزاد حصہ ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ کو مصنوعی جدید نو آبادیاتی ملک پاکستان کی افواج نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ بلوچ روز اول سے ہی مزاحمت کرتے رہے جسے سوسال ہو رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوموں کی آزادی پر یقین رکھنے والی اقوام عالم بلوچ تحریک آزادی کی مدد کرتی لیکن ایسا نہ ہوا۔ ؛انقلابی؛چین پر ہمارے بھروسے کو پہلا دھکا ۱۹۵۸ میں لگا جب بدنام زمانہ پاکستانی تشدد گاہ کلی کیمپ کوئٹہ میں چینی ڈاکٹر بلوچ رہنماؤں کو اذیت دینے میں پاکستانی فوج کی تربیت کرتے دیکھے گئے، اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ انہی دنوں سیندک سونے کی کان کا تفصیلی سروے شروع کیا گیا۔چند سال بعد چین کے خفیہ تعلقات ایک انتہا پسند دہشتگرد ملک پاکستان کے ساتھ جو ایک لاکھ بنگالی عورتوں کی عصمت دری کا مجرم تھا منظرعام پر آگئے۔ ستر کی دہائی کی ابتدا ہی میں پہلی منتخب بلوچ حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہزاروں بلوچ شہید کئے گئے گھر جلائے گئے اذیتوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور انہی دنوں چین کوچاغی میں بلوچ سونے کی کان سیندک سے سونا نکالنے کا کنٹریکٹ پاکستان کی حکومت نے جاری کر دیا ظاہر ہے کہ یہ بھی محض اتفاق نہیں تھا، انہی دنوں چین و پاکستان کی مشترکہ خفیہ جوہری سرگرمیاں اسی خطے چاغی میں شروع کی گئں جو ۱۹۹۸ ، ۲۸ مئ کے ایٹمی دھماکے کی شکل میں سامنے آئے جس کے نتیجے میں لاکھوں بلوچ قحط اور کینسر کا شکار ہوگئے سروے کے مطابق نوے فیصد مویشی اور جنگلی حیات مرگء۔ اب بھی ہمارے بچے قبل از وقت پیدائش اور پیدائشی معذوریوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں جا رہے ہیں لیکن چین نے معافی مانگنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھتے ہوئے اس ایٹمی دہشت گردی میں ایران کو بھی شریک کر لیا جس کی قبیح ایٹمی سرگرمیوں کے لئے ایرانی مقبوضہ بلوچستان کا انتخاب کیا گیا یعنی بلوچ نسل کشی کی سازش دگنی طاقت کے ساتھ آگے بڑھائی جارہی ہے۔ بلوچستان قبضہ کے پہلے دن سے آج تک خون آشام دور سے گزر رہا ہے لیکن ۲۰۰۰ سے بلوچستان پر پاکستانی اور ایرانی فوجوں کے مظالم نازی دور کو بھی شرما گئے ہیں اور یہ وہی وقت ہے جب چین بلوچ بندرگاہ گوادر کو بحر ھند میں فوجی ٹھکانا بنانے کی ابتدا کرتا ہے اور بلوچ اسکی بھرپور مخالفت کرتے ہیں جسکی سزا کے طور پر مادروطن بلوچستان کو نازی کنسنٹریشن کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا۔ہم قدیم ادوار سے بلوچ ساحلوں کی حفاظت اپنے قیمتی ترین لہو سے کرتے آرہے ہیں لیکن افریقی و ایشیائی اقوام کے لئے آزاد رہنا انتہائی مشکل ہو گیا جب یوروپی اقوام بحری بیڑوں کے ساتھ سمندروں میں لوٹ مار کے لئے اتر آئیں، واس کوڈے گاما پرتگیزی بحری بیڑے کے ساتھ گوادر پر ۱۵۰۲ میں حملہ آور ہوا مسلسل دو سال کی کئ خونریز جنگوں میں شکست کے بعد پرتگال واپس چلا گیا۔ ہندوستان کے ساحل گووا میں جہاں پرتگیزی جگہ بنا چکے تھے انہوں نے میر حمل جئند بلوچ کا قد آدم مجسمہ تعمیر کیا جو بلوچ پرتگیزی جنگوں میں بلوچ افواج کے رہبر تھے، یہ بہاد ر قوم کے ہیرو کی برتر بحری جنگی حکمت عملی کو خراج تحسین تھا۔ آج قومی آزادی برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ ممکن ہو چکا ہے، پر تاثیر میڈیا و قومی آزادی میں یقین رکھنے والی بین الاقوامی بلند آہنگ آوازیں بلوچ کا ضرور ساتھ دیں گی، اور بلوچ چار سوسال کے عرصے میں اپنی حکمت عملی کو بھی کافی ترقی دے چکا ہے۔ چین نے بلوچ تحریک آزادی کا ساتھ دینے کی بجائے ، بلوچ تیل گیس سونا لوٹنے، خفیہ ایٹمی سرگرمیوں کے لئے بلوچ سرزمین کا ناجائز استعمال کرنے اور بحری فوجی توسیع پسندی کی لالچ و گرسنگی کے لئے جو غیر انسانی اقدامات اٹھائے وہ سامراجی کردار کی گواہی دیتے ہیں بجائے انقلابی کردار کے جس کا چین سرخ پرچم کے ساتھ دعویٰ کرتا ہے۔چین کی ایران اور پاکستان جیسی ظالم جابر اور انسانی حقوق پر یقین نہ رکھنے والے ممالک کی مسلسل حمائت کی وجہ سے ہم گذشتہ پچاس سال سے وحشت و بربریت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن یہ نامہ ہم آپ کے لئے آج کیوں لکھ رہے ہیں؟ کیونکہ آپکی حکومت نے پانچ دھائی پرانی پروکسی وار (بالواسطہ جنگ) کو اوپن وار (بلاواسطہ جنگ) میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، چینی فوج بلوچ سرزمین پر بوٹ رکھنے کی تیاریاں کر رہی ہے کیونکہ پاکستان کی فوجی ناکامیاں چین کی پروکسی وار کو جاری رکھنے میں نااہل ثابت ہو چکی ہیں۔ اسکے معنی یہ ہیں کہ وہ تیاری کر رہے ہیں کہ بلوچ ماؤں کی طرح چینی مائیں بھی اپنے پیارے بیٹوں کی لاشیں وصول کریں جو کہ ایک المیہ ہوگا۔ بلوچ ماؤں کا بے اندازہ غم مادروطن کی خاطر ہے لیکن اگر ایک ماں ایسے بیٹے کی لاش وصول کرے گی جو کسی دوسرے کے وطن کی دولت لوٹنے جارہا تھا تو غم کے احساس میں شرمندگی بھی شامل ہو جائے گی۔ اگر آپ بلوچ خونی سونے کے زیورات پہنیں گی تو ہمیں یقین ہے کہ وہ خوشی کی بجائے آپکے ضمیر پر بوجھ بن جائیں گے۔ہم ہر روز اپنے شہزادے بیٹوں کی تشدد زدہ لاشیں وصول کر رہے ہیں، پہلے انکی آنکھیں اور دل ڈرل مشین سے چھلنی ہوا کرتے تھے پر اب انکی آنکھیں دل گردے جگر سب غائب ہوتے ہیں پاکستانی فوج ہمارے بیٹوں کے اعضا بیچ رہے ہیں، ہمارے عزیز از جان لاپتہ بیٹوں کی لاشیں پاکستانی میڈیکل کالجوں کے ڈائسکشن ٹیبلز پر دیکھی گئں، ہماری باعفت بیٹیوں کو ان کے ریپ سنٹرز میں بے آبرو ہوتے دیکھا گیا اور اسکی رپورٹ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے جاری کی۔ ہم جانتے ہیں کہ آپکی حکومت و بیوروکریسی اس منظر میں کہاں کھڑی ہے لیکن ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ اس خونی منظر میں کہاں کھڑی ہیں؟ عزتیں لوٹنے والوں، تشدد کرنے والوں، انسانی اعضا بیچنے والوں، قاتلوں، چوروں ڈاکو ؤں کے ساتھ؟ یا آپکی حکومت کے ہاتھوں دکھی غم زدہ بلوچ ماؤں کے ساتھ؟مامتا چین میں ہو یا بلوچستان میں ایک جیسی مہربان ہوا کرتی ہے۔ ہماری نسل کشی اور اپنے گھروں کی طرف رخ کرتے غموں کو روکنے کے لےْ اٹھ کھڑی ہوں، آئیں متحد ہو کر دنیا بھر کی بہادرماؤں کو آواز دیں اور مل کر سب کے لےْ ایک خوشیوں بھری پرامن دنیا تعمیر کریں۔

27مارچ یومِ سیاہ، یومِ قبضہ گیریت

ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی انسانی تاریخ میں بالادست اور طاقتور اقوام کا کمزور اور زیر دست اقوام کو اپنا دست نگر بناکر ، ہر طرح کا ظلم و جبر ڈھانا تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ بالادست ____1_~1اقوام کی جانب سے اپنے ہوس قبضہ گیری کی تسکین ، توسیع پسندانہ عزائم اور مادی مفادات کی تکمیل کیلئے تما م انسانی اقدار اور مروجہ عالمی اصولوں کی بے دریغ پامالی کرکے کمزور اقوام کے حقوق پر ڈھاکہ ڈال کر انکی سرزمین پر شبخون مار کر جبراً قبضہ کرکے مادی وسائل کو بڑی بے دردی سے لوٹا گیا ۔ اس دوران نہ کوئی اخلاقی اصول اور نہ ہی انسانیت کا رشتہ ظالم اقوام کے آڑے آئی۔ مگر تاریخ عالم کے لاتعداد محکوم اقوام نے اپنی انسانی عظمت کی بحالی اور طوق غلامی کو گلے سے اتار پھینکنے کیلئے قابض قوتوں سے نبردآزما ہوکر انگنت قربانیاں دے کر تاریخ کے صفحات پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔رائج الوقت میں بھی ظالم اور مظلوم کے درمیان یہ تاریخی کشمکش پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔

27مار چ1948بھی ایک ایسے ہی تجربے کی مثال اور انسانی تاریخ کا یک سیاہ باب ہے کہ جب برطانو ی سامراج کی طفیلی نومولود ریاست ’’پاکستان‘‘ نے تمام تر انسانی اقدار ، اخلاقی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بلوچ قوم کے آبی گزر گاہوں پر قبضہ کرنے اور بلوچ قومی وسائل ہتھیانے کیلئے اپنے مغربی آقاؤں کی ایما ء پر بلوچ سرزمین پر شبخو ن مارکر ایک خونی معرکے کے بعد قبضہ کرلیا۔ قبل ازیں 11اگست 1947کو آزاد ہونے والے بلوچ ریاست کو ریاست عمان، افغانستان، برطانیہ اور خود پاکستان نے بھی تسلیم کرلیا تھا۔ مگر اپنے نومولود کنگال ریاست کی کفالت کیلئے گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے معدنی وسائل سے مالامال بلوچ سرزمین کا الحاق پاکستان سے کرنے کیلئے خان آف قلات پر دباؤ ڈالا مگر بلو چ ریاست کے جمہوری اداروں’’دیوانِ عام اور دیوانِ خاص‘‘ کے تمام ممبران جن میں دیوانِ عام کے ممبران میں مولانا محمد عمر دیوبندی،مولانا عرض محمد دیوبندی، ملک فیض محمد یوسفزئی، مرزا خدا بخش اور مولانانورمحمداور دیوانِ خاص کے ممبران میں میر دزوز خان زرکزئی ، حاجی محمد خان شاہوانی، وڈیرہ شیر محمد خان رند اور محبوب علی خان مگسی پیش پیش تھے، واضح انداز میں پاکستان سے الحاق کو رد کرکے اپنی آزادی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ مگر بعد از اں پاکستانی حکومت نے شاطرانہ انداز میں بلوچ ریاست کے مرکز قلات پر فوجی ایکشن کے ذریعے قبضہ کرلیا۔جس کا ذکر ایک پاکستانی فوجی جنرل اکبر خان نے 14اگست1960کوروزنامہ ڈان میں لکھے گئے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے سپاہی اونٹوں پر اسلحہ لاد کر تاجروں کے بھیس میں قلات میں داخل ہوئے تھے تاکہ کوئی ان پر شبہ نہ کرسکے۔’’ یعنی راہگیروں کے روپ میں راہزن ‘‘۔

پاکستانی قبضے کے خلاف خان آف قلات کے چھوٹے بھائی آغا عبدالکریم خان نے اپنے جانثاران محمد حسین عنقاء، ملک سعید دہوار، قادربخش نظامانی، مولوی محمد افضل کے ساتھ بلوچ لبریشن فورس تشکیل دے کرمسلح جدوجہد کا آغاز کردیاجنہیں قرآن کو ضامن بناکر مذاکرات کیلئے بلا کر دھوکے سے گرفتارکیا گیا۔ پاکستانی ریاست سمیت نام نہاد پاکستانی میڈیا اور درباری دانشور شروع دن سے اس تاریخی سچائی اور حقیقت سے انکاری ہے۔12دسمبر1947کو دیوانِ عام کے اجلاس میں مولانا عرض محمد نے کہا تھا کہ ہم کمزور بلی کی طرح ختم ہوجائیں گے، مٹ جائیں گے مگر اپنے دشمن کا چہرہ ضرور نوچ لیں گے۔ اور آج وہ کمزور تحریک مختلف نشیب و فراز سے گزر کر تاریخ کے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرگیا ہے اور پاکستان کی تمام تر ظلم و بربریت کے باوجود اسکے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اپنے منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ ہر 27مارچ کا دن ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے مادرِ وطن کی آزاد حیثیت کی بحالی کیلئے جدوجہد کو مزید مضبو ط و منظم کریں تاکہ ہم پاکستانی فورسز کو نکال باہر کرکے اپنے سرزمین پر سے پاکستانی قبضہ گیریت کو جڑ سے اکھاڑ دیں۔ اور اپنے سرزمین کی آزاد حیثیت بحال کرکے اپنے گلے سے طوق غلامی اتار کر آزادی کی نو یدِ صبح حاصل کریں۔

بشکریہ : بلوچ نیشنل فرنٹ

“23مارچ: بھگت سنگھ کا یوم شہادت”

تحریر : لال خان

401527_480323202001314_699236751_n23 مارچ 1931ء کو برطانوی سامراج اور سرمایہ داری سے برِ صغیرِہند کے عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رام راج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔ برطانوی سامراجی حکومت اپنے خلاف عوامی تحریک میں بائیں بازو کے ریڈیکل رجحان کے ابھرنے سے بہت خوفزدہ تھی۔ ان نوجوان انقلابیوں کو تو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد ابھرنے والے عوامی غم و غصے اور بغاوت نے نو آبادیاتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہندوستان کی صورتحال کے متعلق 1932ء میں یہاں آئے ہوئے ایک برطانوی پادری سی ایف اینڈریوز نے لکھا کہ ’’ ہندوستان کی موجودوہ کیفیت انیس سو سال قبل کی سلطنتِ روم جیسی ہے۔ وہاں بھی ظاہری طور پر ایسا ہی شاندار امن قائم تھا،لیکن بظاہر پر امن نظر آنے والے اس علاقے کے اندر ایک سلگتا ہوا خلفشار یک دم آتش فشانی لاوے کی طرح دھرتی کو پھاڑکر باہر آنا شروع ہو گیا ہے‘‘۔

1917ء میں روس میں ہونے والے بالشویک انقلاب نے ہندوستان کی تحریک آزادی کو بہت متاثر کیا اور ساری دنیا کی طرح یہاں بھی اس کے بہت بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ خصوصاً نوجوان اس انقلابی ابھار سے بہت متحرک ہوئے۔ ہندوستان سوشلسٹ ریولوشنری آرمی (ایچ ایس آر اے) کا قیام سماجی شعور میں آتی ہوئی تبدیلی کا اظہار تھا۔ بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، چندر شیکھر آزاد، بی کے دت اور دیگر نوجوان انقلابیوں کے جرات مند کارناموں نے پورے برِ صغیر میں محکوم عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا،لیکن ایک مارکسسٹ لینن اسٹ پارٹی کی عدم موجودگی میں انقلاب کے لئے سائنسی لائحہ عمل نہ مل پانے کی وجہ سے ان نوجوانوں نے مسلح جدوجہد اور انفرادی دہشت گردی کا طریقہ اختیار کیا۔

لاہور ریلوے اسٹیشن پر سائمن کمیشن کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے کسانوں کے ریڈکل رہنما لالہ لجپت رائے پر پولیس کے بہیمانہ تشدد اور شدید زخمی کرنے کے بعد واقعات کے اس سلسلے کا آغاز ہوا۔ 17 نومبر 1928ء کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ انتقاماً ایچ ایس آر اے کے چند مسلح کارکنان نے 8 اپریل 1929ء کو اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ پولیس جان پویانٹس سانڈرز کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ بھگت سنگھ اور دوسرے کامریڈوں کو اس قتل اور دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے سرکاری بنچوں پر احتجاجاًبے ضرر بم پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ ماہ تک ان پر مقدمہ چلایا گیا جس کی کاروائی کے دوران ملزمان کے انقلابی بیانات نوجوانوں کو گرما تے رہے اور ان کی تحریک کو عوامی حمایت حاصل ہو گئی۔ اس سے نہ صرف سامراجی اقتدار کے ایوان بلکہ نام نہاد آزادی پسند مقامی بورژوا لیڈران بھی لرز اٹھے جو خوفزدہ تھے کہ اس ریڈیکل رجحان کے ہاتھوں وہ جدوجہدِ آزادی کی قیادت سے باہر ہو جائیں گے۔

7 اکتوبر 1930ء کو جسٹس اے آر کولڈ سٹریم نے فیصلہ سنا دیا۔ حکومت نے لاہور سازش کیس آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے سماعت کے دوران وکیلِ صفائی، گواہان اور ملزمان کی موجودگی کی ضرورت ختم کر دی گئی۔ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ’عدم تشدد کا علمبردار‘گاندھی اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ اروِن کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے دوران رحم کی اپیل کر کے ان انقلابیوں کی زندگیاں بچا سکتا تھا۔ گاندھی اروِن معاہدہ19 مارچ 1931ء کو طے پایا جس میں تیج بہادر سپرو اوردیگر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ عوام میں اس معاہدے کے خلاف شدید نفرت اور غصہ تھا کیونکہ اس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ کانگریس کے اہم رہنما ڈاکٹر سبھاش چندر بوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا کہ’’ہمارے اور برطانویوں کے درمیان خون کا ایک دریا اور لاشوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہے۔ گاندھی کی جانب سے کیے گئے سمجھوتے کو ہم کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔‘‘ گاندھی اور اروِن کی ملاقات کے دن بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وائسرائے کو ایک خط بھیجا۔ رحم کی اپیل کی بجائے انہوں نے جنگی قیدیوں جیسے سلوک اور پھانسی کی بجائے گولی کے ذریعے موت کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں کراچی میں ہونے والی آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے اجلاس میں یہ نعرہ لگتا رہا کہ ’’ گاندھی کے معاہدے نے بھگت سنگھ کو مار ڈالا‘‘۔

بھگت سنگھ کی شہادت کی کئی دہائیوں بعد ہندوستان اور پاکستان میں منظرِ عام پر موجود دانشوروں اور سیاسی اشرافیہ نے اس کی میراث کو مسخ کر دیا ہے۔ پاکستان میں ماضی پرست ریاستی قوتوں اور قدامت پرست اشرافیہ نے اسے ’کافر‘ قرار دے کر اس کے حقیقی نظریات پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہندوستان میں اس کے تشخص کو ایک حریت پسند قوم پرست تک محدود کر دیا گیا ہے اور اس کے سوشلسٹ اور انقلابی کردار کو داغدار اور مسخ کیا گیا ہے۔ اگرچہ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کے آغاز سے ہی بھگت سنگھ کوئی مارکسسٹ نہیں تھا، لیکن مسلح جدوجہد کے تجربات اور مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کو پڑھنے کے بعد رفتہ رفتہ وہ بالشویزم اورانقلابی سوشلزم کے قریب آچکا تھا۔ بھگت سنگھ آرکایؤز میں ایک اخباری رپورٹ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ’’21 جنوری 1930ء کو لاہور سازش کیس کے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے سر پر سرخ پٹیاں باندھ ررکھی تھیں۔ مجسٹریٹ کے بیٹھتے ہی وہ نعرے لگانا شروع ہو گئے کہ ’لینن کا نام امر ہے‘ اور’سامراج مردہ باد‘۔ پھر بھگت سنگھ نے عدالت میں ایک ٹیلی گرام کا متن پڑھا اور مجسٹریٹ سے مطالبہ کیا کہ اسے تیسری انٹر نیشنل کو ارسال کیا جائے‘‘۔ شری رام بخشی نے اپنی کتاب ’بھگت سنگھ اور اس کا نظریہ‘ میں بھگت سنگھ کا قول لکھا ہے کہ’ ’انقلاب سے ہماری مراد ایک ایسے سماجی نظام کا قیام ہے جس میں پرولتاریہ کا اقتدار تسلیم ہو اور ایک عالمگیر فیڈریشن کے ذریعے نسلِ انسانی سرمایہ داری، مصائب اور سامراجی جنگوں کی غلامی سے آزادی پا لے۔ ‘‘

یہ اور ایسے کئی اور اقوال اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھگت سنگھ قوم پرست نہیں بلکہ عالمگیر یت کا داعی تھا۔ وہ مارکسی پوزیشن کے بہت قریب پہنچ چکا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ بر صغیرِ ہند میں ایک سوشلسٹ انقلاب ہی تحریک آزادی کا منطقی انجام ہے۔ یہاں ایک سوشلسٹ فتح ساری دنیا میں انقلاب کے پھیلاؤ کا نکتہ آغاز ہو گی۔ بھگت سنگھ اوراس کے کامریڈوں کو مقامی اشرافیہ (جنہیں ’بھُورے صاحب‘ بھی کہا جاتا تھا) کے غداری پر مبنی کردار کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ تھی۔ بہت تحقیق پر مبنی راج کمار سنتوشی کی 2002ء میں بننے والی فلم ’دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ میں بھگت سنگھ تقریر میں کہتا ہے کہ’’ہمیں آزادی نہیں چاہیے! ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جہاں انگریز حکمرانوں کی جگہ مقامی اشرافیہ لے لیں۔ ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جس میں غلامی اور استحصال پر مبنی یہ بوسیدہ نظام قائم رہے۔ ہماری لڑائی ایسی آزادی کے لیے ہے جو اس ظالمانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے بدل کر رکھ دے۔ ‘‘ خونی تقسیم کے بعد نام نہاد آزادی کے پینسٹھ برسوں میں جنوبی ایشیا کے ان حکمران طبقات نے سماج کو تاراج اور کروڑوں عوام کو برباد کر ڈالا ہے۔ یہ مجبور طبقات استحصال، سامراجی لوٹ مار، مصائب،غربت اور بیماری کے ہاتھوں تباہ ہو گئے ہیں۔ نئی نسلوں کی یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ بھگت سنگھ کی انقلابی میراث کو پھر سے تلاش کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل کریں جس کے لئے وہ جیا، لڑا اور اپنی جان قربان کی۔