بلوچ کیوں پاکستانی انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے؟
تحریر : ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ
انگریز کی وضع کردہ قوانین کے تحت نو آ بادیاتی ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس نے انتخابات میں حصہ لیا۔کانگریس کے صدرابوالکلام آزاد کے بقول تمام کانگریسی وزراء ہندوستان
کے بجائے انگریزی گورنروں کے زیر اثر رہے اور انہی کی پالیسیوں کو اپنایا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ جہاں کہیں بھی نو آبادیاتی قوتوں نے قوانین بنائے انہوں نے اس نو آبادیات پر اپنے قبضے کو دوام دینے اور اسکے وسائل کے بے دریغ لوٹ کھسوٹ کو قانونی لبادہ پہنایا؟۔ یہی کچھ 1948ء سے لیکر اب تک ہمارے بلوچ وطن میں ہو رہا ہے۔ایک چھوٹے سے گروہ کو شرکت اقتدار (اقتدارِاعلی نہیں)دیکر پوری قوم کو یرغمال بنایاگیا اور اسی مراعات یافتہ گروہ(اشرافیہ)کو قائم و دائم رکھنے کیلئے مقبوضہ بلوچستان میں حالیہ انتخابات بزورِ طاقت کرائے جارہے ہیں ۔مارچ1948ء میں بلوچ قوم کی رضا و منشاء کے برخلاف عالمی قوانین و جغرافیائی سرحدوں کی خلاف وررزی کرتے ہوئے پاکستان نے بزورِقوت بلوچ وطن پر جبری قبضہ کیا اور جبری قبضہ سے لیکر 1973ء تک پاکستان کی آئین ساز پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے ،جس میں بلوچ وطن کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرکے اسے مغربی پاکستان یعنی پنجاب میں ضم کیا گیا۔اور انہی قوانین و آئین ساز اداروں کو بنیاد بنا کر بلوچ فرزندوں کو انہی عدالتوں میں سزائے موت دیکر تختہء دار پر لٹکایا گیا۔ بابو نوروز سے لیکر شہید حمید بلوچ انہی ریاستی اسمبلیوں کے قوانین کی بھینٹ چڑھے،انہی اسمبلیو ں کی قانو ن سازی کے ذریعے بلوچ قوم پر قومی زبانوں کی جگہ غیر زبانوں کو مسلط کرکے بلوچ قوم کی ثقافت کو مسخ کرکے غیر فطری ملک پاکستان کے ساتھ جذب کرنے کی حتی الوسع کوشش کی گئی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ ان تمام قانون ساز اداروں نے قوانین بنا کر انہیں اپنی عدالتوں میں بلوچ قوم کیخلاف ننگی تلوار کے طور پر استعمال کیا اور دہشتگرد پاکستانی فوج انہی اسمبلیوں کی وضع کردہ قوانین کے تحت بلوچ وطن پر خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ پاکستانی فوج کی انسانیت سوز جنگی جرائم کو اسکی عدالتیں انہی قوانین کے تحت جائز قرار دے رہے ہیں۔
بلوچ قومی آزادی کی جنگ عالمی قوانین کے تحت اپنی قومی ریاست کی بحالی کیلئے لڑی جا رہی ہے جو تمام انسانی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنی جنگ آزادی کیلئے تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے،جس میں دشمن کی مسلح و درندہ صفت فوج اور ان کے ڈیتھ اسکواڈکا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم نے عوامی و جمہوری سوچ کے ذریعے اپنی تحریر و تقریر سے دنیا کو باور کرایا ہے کہ بلوچ ایک آزاد و خود مختار ریاست کے حصول کی جدو جہد میں عالمی قوانین کے تحت انسانی حقوق و اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنے مقصد کیلئے لڑ رہی ہے۔ بلوچ قوم سیکولر اور انصاف پر مبنی ایک ایسی ریاست کی تشکیل کیلئے جد و جہد کر رہی ہے جو پوری انسانیت کی بقاء و سا لمیت کی خاطر ہوگی، اور جو مذہبی انتہا پسندی،قومی توسیع پسندی ،حوسِ قبضہ گیری،خطے میں دہشتگردی جیسے انسان دشمن سوچ کیخلاف ایک بفر اسٹیٹ ثابت ہوگا۔ بلوچ کی آزادی کے ثمرات سے نہ صرف یہ خطّہ بلکہ پوری دنیا بہرہ مند ہوگی۔ بلوچ اپنی آزادی کے بعد اپنے قومی وسائل کو بلوچ قوم کی فلاح کیلئے استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے امن پسند قوموں کے ساتھ مل کر ایٹمی، کیمیائی اور بائیولوجیکل جیسے انسان کُش ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے اقوام عالم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
پاکستانی میڈیا اور بلوچستان میں نام نہاد وفاق پرست یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستانی قوانین، اسمبلی و پارلیمنٹ کیخلاف بلوچ آزادی پسندوں کی مخالفت در اصل جمہوریت کی مخالفت ہے۔ ان وفاق پرست قوتوں اور نام نہاد جمہوریت پسندوں کو سمجھنا چاہیے کہ آزادی پسند قوتیں و مزاحمتی تنظیمیں کیونکر ان نام نہاد انتخابات کی مخالفت کر رہے ہیں؛
1
۔ پاکستانی خفیہ ادارے انتخابات کے ذریعے چند لوگوں کو منتخب کرواکر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ بلوچ پاکستان کے آئینی اداروں کو مانتے ہیں۔ لہٰذا بلوچستان پر قبضہ بلوچوں کی خواہش پر ہوا ہے اور بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے سامنے یہ جواز پیش کریں گے کہ بلوچستان پر قبضہ جائز ہے۔
2۔ نو آبادیاتی پارلیمان صرف ایسے قوانین بناتے ہیں جس میں مقبوضہ قوم کی جغرافیائی خطے کا بٹوارہ ہو۔ جیسے جیکب آباد (خان گڑھ)، راجن پور، ڈی جی خان کو پنجاب و سندھ میں شامل کرکے بلوچوں کو اُن کی قومی سرزمین سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی قومی زبان و ثقافت کو بھی زنگ آلود کر دیا۔ نو آبادیاتی طرز قوانین کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کو مقبوضہ بلوچستان کے وسائل دے کر انہیں بلوچ قوم کی قومی آزادی کو سلب کرنے کیلئے استعمال کرنا (جیسے رئیسانی و مگسی حکومت بلوچ وسائل کو فوج ، ایف سی و رینجرز کو دے کر بلوچ قوم کی نسل کُشی کر رہے ہیں) اور آئندہ اسمبلی بھی وفاق کے پابند ویسے ہی قوانین بنائیگی جس طرح 1948 سے لے کر2008 کی اسمبلیاں بناتے آرہے ہیں۔
3۔ ان انتخابات کا مقصد ایک ایسے مراعات یافتہ گروہ کی تشکیل کرنا ہے جو بلوچ جنگ آزادی کیخلاف دشمن کے ایک کالم کے حیثیت سے کام کرے جس طرح سابقہ اسمبلیوں میں اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ہم نے ایف سی اور فوج کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف فوجی آپریشن کرے۔ ہزاروں بلوچوں کا پابند سلاسل ہونا اور ہزاروں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں گرنا انہی نام نہاد اسمبلی ممبران کی کارستانی ہے۔
4۔ بلوچ جہد آزادی کیخلاف قوانین بنا کر زیر زمین موجود بلوچ قومی وسائل کو قبضہ گیر کے حوالے کرنے کا ایک قانونی جواز ڈھونڈنا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ بلوچوں نے اسمبلی کے ذریعے یہ معاہدے کیے ہیں۔ سیندک پروجیکٹ،ریکوڈک معاہدہ،گوادر پورٹ،سوئی گیس فیلڈ،یہ تمام اسکی واضح مثالیں ہیں۔ یہ اسمبلی جمہوریت کے نام پر ایسے قوانین بنائے گی جو قابض ریاست کی بلوچ وسائل کے لوٹ مار کو آئینی جواز فراہم کریں گی۔
5۔قابض ریاست انہی کٹھ پتلی اسمبلی ممبران کو اقوام عالم کے سامنے بلوچ قوم کا نمائندہ پیش کرکے قومی وسائل کی لوٹ مار کو جائز قرار دینے کی کوشش کرے گی۔
لہٰذا مندرجہ بالا نقاط کے پیش نظر آزادی پسند بلوچ قوم نے اس بات کا ادراک کرلیا ہے کہ ہم ان پاکستانی اداروں کا حصہ نہیں بنیں گے اور دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ یہ بلوچ قوم کے نمائندے نہیں ہیں ۔آج بھی بلوچستان کے پچانوے فیصد علاقوں میں ان نام نہاد پارلیمان پسندوں کو بلوچ قوم کی شدید مخالفت کا سامنا ہے اور پوری قوم نے ان نام نہاد پارلیمان پسندوں کو مسترد کیا ہے۔ ایماندار اور غیرجانبدار ذرائع ابلاغ، مہذب و انسان دوست اقوام، عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ ، بلوچ کی قومی آزادی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں اور بلوچستان کو ایک جنگ زدہ خطہ (conflict zone) ڈیکلیئر کریں۔
ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ بلوچستان لیبریشن فرنٹ کے کمانڈر ہیں
(بشکریہ : تنقید )
NO VOTE NO ELECTION WE BALOCH ONLY WANT FREEDOM
تحریر : انزلنا سمل بلوچ
ﺁﺝ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﺱ ﻧﮩﺞ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﺎ ﮬﯿﮑﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﻌﻮﺭ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﯿﮟ ﻗﻮﻡ ﯾﮧ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻏﻼﻡ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻏﺎﺻﺐ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﻧﮯﺑﺬﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﯿﺎﮨﮯ – ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺝ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﮨﮯ . ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺍﻥ ﺑﻠﻮﭺ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺟﺎﺗﺎﮬﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﺎﺭ ، ﺁﺭﺍﻡ ﻭ ﺁﺷﺎﺋﺶ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﮑﻦ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺑﻠﻮﭺ ﮔﻞ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ …ﺑﻠﻮﭺ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺪﺍﮰ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻟﮩﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ. ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻠﻮﭺ ﺟﮩﺪ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻗﺪﻡ ﺑﮧ ﻗﺪﻡ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺑﻠﻮﭺ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﮑﮫ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﮕﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺐ ﮬﻢ ﺳﺐ ﺑﻠﻮﭺ ﺑﮩﻦ، ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺑﺎﭖ، ﺑﭽﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﻮﮐﺮ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭨﮭﺎﺋﻨﮕﮯ. ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﯿﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮍﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻟﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺗﻮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﺢ ﮬﻮﮔﺌﯽ . ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﻏﻼﻣﯽ، ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﮩﺪ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﻼﻡ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﮕﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺀﻋﻤﻠﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﻮﺭﯾﻠﮧ ﺟﻨﮕﯽ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﭘﺎﺳﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ …
ﺟﺐ ﮬﻢ ﺳﺐ ﺑﻠﻮﭺ ﺑﮩﻦ، ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺑﺎﭖ، ﺑﭽﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﻮﮐﺮ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭨﮭﺎﺋﻨﮕﮯ. ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﯿﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮍﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﻟﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺗﻮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﺢ ﮬﻮﮔﺌﯽ . ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﻏﻼﻣﯽ، ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﮩﺪ ﮐﺎﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﻼﻡ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﮕﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺀﻋﻤﻠﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﻮﺭﯾﻠﮧ ﺟﻨﮕﯽ ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﭘﺎﺳﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ …
ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﻨﮓ ﺟﻮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﯾﺖ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻭﯾﺖ ﮔﻮﻧﮓ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻭﮨﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺷﻌﻮﺭ ﺳﮯ ﻟﯿﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﮩﺮ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﺳﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﻃﻦ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﺟﻤﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ..ﮐﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮬﯿﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﭩﮭﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ ؟ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﮨﻮﮞ،ﺍﯾﮏ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ؛ﻭﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﮯ ﺟﺲ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ، ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﻣﯿﮟ،ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﺁﮒ ﮐﮯ، ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﭼﮭﺖ ﮐﮯ،ﮔﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﺎﺋﮯ ﮐﮯ، ﮐﺌﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﻃﮯﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﭩﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ . ﻏﻼﻣﯽ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﺍﻭﺭ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ….ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﺮﻣﭽﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ . . ..ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻏﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﭽﮫ ﺯﺭﺧﺮﯾﺪ ﮔﻤﺎﺷﺘﮯ )ﻗﻮﻣﯽ ﻏﺪﺍﺭ( ﺍﭘﻨﯽﺿﻤﯿﺮ ﺑﯿﭽﮫ ﮐﺮ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮞﺘﺎﺭﯾﺦ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮩﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﮕﻼ ﺩﯾﺶ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺫﻟﺖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﯽ ﭘﮍﯼ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺿﻤﯿﺮ ﻓﺮﻭﺵ ﻏﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮨﻮﮔﺎﺁﺝ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻏﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﮐﺴﯽ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﺮﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ؛؛؛
ﺁﺝ ﻇﺎﻟﻢ ﻗﺎﺑﺾ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﻇﺎﻟﻤﺎﻧﮧ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑﻠﻮﭼﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻏﻮﺍ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﮈﺭﻝ، ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﻣﺴﺦ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ _ ﺍﻑ ﺑﻠﻮﭺ ﻣﺎﮞ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﻮ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﭼﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻻﻝ ﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯿﮕﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﻏﻮﺍ ﮬﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﺦ ﻻﺵ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻻﺵ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﮪ ….. ﮐﯿﺎ ﮬﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﮯ ﻟﮩﻮ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺰﺭﺍﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﯿﮑﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮨﺮ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺫﺍﺩﯼ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﻘﻂ ﭼﻨﺪ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﮨﯿﮟ .. ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺴﻠﺢ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ BLA,BLF,BRA ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﻠﻮﭺ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺗﻨﺒﯿﮧ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﺍﺱ ﻗﺒﻀﮧ ﮔﯿﺮ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﯿﮟ ﻣﺬﯾﺪ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮧﺩﮬﻨﺲ ﺟﺎﺋﮯ. ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺴﻠﺢ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮐﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﺮﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﻠﻮﭺ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯽ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺩﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺤﺼﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﯿﮑﮧ ﺁﭖﮐﯽ ﺧﻮﺷﺤﺎﻟﯽ ﻭﻭﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮬﻢ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ، ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ، ﺑﻠﻮﭺ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺮﺯﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ .ﺍﺏ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﻠﻮﭺ ﻗﻮﻡ ﻣﺬﯾﺪ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﻨﺪ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﺎ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ ﮐﺮﺗﮯ .
ﺑﻠﻨﺪ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭘﻨﯽ، ﺧﯿﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ، ﻣﺰﺍﺝ
ﺍﭘﻨﺎ،ﺑﻠﻨﺪ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭘﻨﯽ، ﺧﯿﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ، ﻣﺰﺍﺝ ﺍﭘﻨﺎ؛؛؛
ﻧﮧ
ﮈﮔﻤﮕﺎﺋﮯ ﻗﺪﻡ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻭﻗﺎﺭﺍﭘﻨﺎ “.
مکران میں ناممکن الیکشن
(میرک جان)
کران بھر میں الیکشن مہم ماند،سیاسی ہلچل صرف گاغذات کی نامزدگی تک محدود رہ گئی،متحرک مزاحمتی تنظیموں کی اچانک پر اسرار خاموشی بھی خوف کا باعث بن گئی ،معروف سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان تو کردیا ہے اور اپنے امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کی ہیں مگر سیاسی سرگرمیاں کہیں دکھائی نہیں دے رہی ،مکران میں مزاحمتی تنظیموں کی کچھ دن قبل سرگرمیوں کے بعد اچانک خاموشی نے ماحول کو مذید حیرت ذدہ کردیا ہے ،جنرل الیکشن2013میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے مرحلے کو بخوبی سر کرلیا اور اپنے امیدواروں کو نامزد کر کے ان کے نامزدگی کاغذات بھی جمع کرادیئے مگر ان سب کے باوجود گوادر سمیت کیچ اور پنجگور میں الیکشن کی روایتی سرگرمیاں کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں مکران کے تینوں اضلاع میں الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی بلند وبانگ دعوؤں کے برعکس ایک خوف کا ماحول موجود ہے جسے سب محسوس کررہے ہیں بی ایل اے،بی آر اے اور بی ایل ایف سمیت بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے الیکشن کے اعلان سے قبل اور کاغذات نامزدگیاں داخل کرانے سے پہلے مکران بھر میں پر اسرار طور پر پہلی مرتبہ کھل کر الیکشن مخالف مہم چلائی اور مختلف مزاحمتی تنظیموں کے مسلح افراد خود چل کر الیکشن کے خلاف سرعام پمفلٹ تقسیم کرتے رہے اور کئی علاقو ں میں باقاعدہ عوام کوجمعکر کے ان سے الیکشن کے خلاف خطاب کیا وہ حیران کن تھا جس سے پارلیمنٹ مخالف جزبات رکھے عوام میں الیکشن کے بارے ڈر اور خوف کا ماحول مذید گہرا ہوگیا جوں ہی الیکشن کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تو امیدواروں کا اعلان اور کاغذات نامزدگیاں جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا گراؤنڈ پر متحرک زیر زمین تنظیموں کی سرگرمیاں بھی یک لخت خاموش ہوگئیں ۔عام ووٹرز،متحرک سیاسی کارکنان اور دبے الفاظ انتخابی امیدوار بھی متحرک سرگرمیوں کے دوران اس اچانک اور پر اسرار خاموشی کو ایک خاص حکمت عملی سمجھ رہے ہیں اور گہرائی سے اس کا مشاہدہ کرنے لگے ہیں عام عوام انتخابات میں پہلے ہی کوئی معمولی دلچسپی بھی نہیں دکھ رہی تھی مگر اب وہ لوگ جو الیکشن کے لئے پہلے کافی سرگرم اور پر جوش تھے وہ بھی مزاحمتی تنظیموں کی خاموشی کو حکمت عملی سمجھ کر چھپ رہنے میں عافیت ڈھونڈ رہے ہیں ۔واضح ہوکہ مکران میں الیکشن کے لئے کوئی سازگار حالات تو نہیں تھے لیکن سرکاری سطح پر حساس پولنگ اسٹیشنز میں فوج کو تعینات کرنے کے اعلان سے لوگ مذید ڈر،خوف اور پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں کیوں کہ مکران بھر میں فی الحال کوئی نارمل پولنگ اسٹیشنز نظر نہیں آرہی جہاں الیکشن سو فیصد پر امن اور ایک خاص ریشو سے انجام پزیز ہوں اور اگر پورے مکران میں فوج کو الیکشن کے لئے تعینات کردیا گیا تو امکان ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد جو چند لوگ ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے وہ بھی پولنگ اسٹیشنز کے لئے نہیں نکلیں گے ،مزاحمتی سرگرمیوں اور مکران بھر میں آزادی پسند سیاسی کارکنوں کی اغواء و مسخ لاشوں کے بعد پارلیمنٹ کے خلاف عمومی نفرت پائی جاتی ہے عام طور پر لوگ پارلیمانی جماعتوں کو مسخ لاشوں اور سیاسی کارکنوں کی اغواء کا بلواسطہ زمہ دار سمجھتے ہیں اب جبکہ الیکشن کا علان کردیا گیا ہے اور انتخابی امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کردی گئی ہیں تو ایک انتخابی ماحول بھی پیدا ہونا چاہیے تھا لیکن اس مرتبہ اس کے برعکس ہے الیکشن کے حوالے سے نہ صرف عوامی سطح پر کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی بلکہ خود الیکشن میں حصہ بننے والی جماعتیں بھی روایتی جوش و خروش نہیں دکھارہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مکران میں اگر الیکشن ہوبھی گئے تو امکانی طور پر بہت خطرناک بلکہ خونی الیکشن ہونگے کیوں تمپ ،مند،تربت،پنجگور ، گوادر اورپسنی اس وقت خون میں نہلا رہے ہیں صرف سیاسی لیڈروں کو چھوڑ کر عام طبقے کا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جہاں ایک مسخ لاش نہیں پہنچا یا کوئی فرد اغواء نہ کیا گیا ہوسیاسی جماعتوں کی تمام تر دعوؤں کے باوصف عوامی نفرت کا برملا اظہار فروری کے مہینے بی این ایف کے زیر اہتمام الیکشن مخالف ہزاروں نفوس پر مشتمل ایک عظیم الشان ریلی کی صورت تربت میں نظر آیا جس میں نہ صرف مختلف عمر کے مرد شریک تھے بلکہ ریلی کا بڑاحصہ خواتین پر مشتمل تھا جو صرف اور صرف انتخابات اور پارلیمنٹ سے نفرت کا واضح اظہار لئے ہوئے تھا ۔الیکشن کے حوالے سے ایک جانب عوامی نفرت،دوسری طرف بی این ایف کا الیکشن مخالف کامیاب مہم اور تیسری طرف مزاحمتی تنظیموں کا الیکشن کو کسی بھی قیمت پر مکمل سبوتاژ کرنے کا کھلم کھلا اعلان اور اوپن سرگرمیوں کے بعد اچانک خاموشی اپنے پیچھے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ایسے میں اگر الیکشن فوج کی نگرانی میں بزور قوت کرائے بھی گئے تو بہت ہی خونی اور خطرناک ہونگے ۔
قومی تنظیم بی ایس او آزاد
شہباز بلوچ
میرے خیال میں بغاوت وہ کرتا ہے جو عقل اور شعور و آگاہی رکھتاہے‘‘۔یہ الفاظ ہے دلائی لامہ کے،ان الفاظ کو لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پوری ریاستی مشینری با لعموم اور نام نہاد بلوچ قوم کے ہمدرد با لخصو ص اس غم میں لاغر ہو رہے ہیں کہ بلوچ قوم کے نوجوانوں کو تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ کو ن کافر اس بات سے انکار کرسکتاہے کہ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔یہ بات کہتے ہی اگلے سانس میں ایک طوفان بدتمیزی کا سماں ہوتاہے اور انکی شیطانیت سامنے آجاتی ہے جب وہ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ بی ایس او آزاد نوجوانوں کو جذباتیت کی طرف لے جارہاہے، جو نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے ریاست کے باغی بنارہی ہے جو عالمی سامراجیت کے چوکیدار اور قبضہ گیر ریاست سے ٹکراتے ہیں،اور شاید بے شعور لوگ ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر قبضہ گیر ہر جگہ اپنے قبضہ کو دوام دینے کے لئے اس طرح کے سامراجی دلائل ہر جگہ پیش کرتاہے۔لیکن دوسری طرف جو حقیقی دانشور اور مفکر ہوتے ہیں ان کے خیال میںیہی لوگ ہی دراصل معاشرے کو عقل و شعور والے لوگ ہیں اور انہی لوگوں میں سماج کو بدلنے کی طاقت اور شعور ہے۔
ایک قبضہ گیر گروہ کی طریقہ تعلیم کو اور ایک انقلابی تنظیم کے طریقہ تعلیم کو ایک دانشور ان الفاظ میں پیش کرتاہےعام طور پر یہ کہاجاتاہے کہ وڈیرے ،سردار اور جاگیردار ملکی وسائل پر قابض اور تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں’’وہ دراصل دو برابر دو جمع چار والی تعلیم کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ وہ ایسی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں جو صیح وقت اور صیح مقام پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیداکرتی ہے‘‘پاکستان اور اسکے دلال اولذکر تعلیم کی بات کرتے ہیں اور بی ایس او آزاد آخر الذکر کی بات کرتاہے جو نوجوانوں کو اس استحصالی گرو ہ کے خلاف نظریاتی تعلیم سے لیس کررہاہے۔جو بلوچ نوجوانوں کوبلوچ قوم کی اسکی محرومی، محکومی ،غلامی اور اس استحصالی گرو ہ کے خلاف سوال اٹھانے کی ترغیب دیتاہے اور ساتھ ساتھ ان کے خلاف لڑنے کی تعلیم بھی دیتاہے۔اس کے علاوہ بی ایس او آزاد نوجوانوں کو اپنے تحریرو ں ،تقریروں،پمفلٹ اور دوسرے ذرائع جیسے اخبارات ،تنظیم کے اپنے رسالے اور تربیتی سیریز کے ذریعے بلوچ قوم کی تاریخ،تہذیب ،رسم و رواج ،بلوچی و براہوئی زبانوں سے محبت کی تعلیم دیتاہے اور ان سے آگاہ کرتاہے۔جبکہ دوسری طرف یہ سامراجی پھٹو اور اسکے دلال ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ کی تاریخ ،تہذیب ،رسم و رواج اور زبانوں کو مسخ کر رہے ہیں۔بلوچ نوجوانوں کو اپنے ہی زبان اور رسم و رواج سے نفرت کرناسکھارہے ہیں آج بھی بلوچ معاشرے میں ایسے ڈاکٹر وں،انجنئیروں اور دانشوروں کی بہتات ہے جنہوں نے اردو اور انگریزی زبانوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے جو بلوچی و براہوئی زبانوں کو اپنے لیئے باعث شرم خیال کرتے ہیں۔
اپنی ہی مقدس روایات رسم و رواج سے نفرت کرتے ہیں جن کا پوری دنیا قائل ہے لیکن وہ پنجابی جیسے غیر مہذب گروہ کو اعلیٰ سمجھتے ہیں طارق علی پنجاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’یہ گزرگاہ(پنجاب)ایک طوائف کی طرح رہاہے،جسے مہذب ہونے کے ساتھ ساتھ شمال کے ان مردانگی سے بھر پور وحشیوں کاا نتظار ہنے لگا ،پنجاب سے لکھے جانے والے دعوت نامے اسی انتظار کی کیفیت کا پتہ دیتے ہیں۔آج جب پنجاب کی خوشحال اور متوسط طبقوں کی خواتین تیزی سے پردہ پوش ہو رہی ہیں اور مرد داڑھی سے مزین ہورہے ہیںیہ ان مرد ان کی غیرت مندی کانتیجہ ہیں‘‘اس بحث کو یہاں چھوڑکر میں صرف ان نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں سے یہ کہونگا کہ وہ ذرا یہ سوچھے کہ وہ کس گرو ہ کی تقلید کررہے ہیں؟اور کیا یہ جہالت کی انتہا نہیں؟
نظریات ،انداز فکر،روایات ،جذبات سرزمین کی خصوصیات سے جنم لیتے ہیں ایسی خصوصیات جو انسانوں میں اجاگر ہونی چاہیے۔آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ نوجوانوں کو ان سے محروم رکھا جارہاہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد محب وطن ہونے کے تقاضوں کو پوراکرنا ،انسانی شخصیت کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالناجس میں جذبات و احساسات کی شدت کا بہترین احساس کے تحت احساس ہو اور غیر متوازی اور ادھوری شخصیت کا کوئی بھی عنصر پھل پھول نہ سکے ۔ جب تک تعلیم میںیہ سپرٹ پیدا نہ ہوگی ،بے حس لاشوں کی ذہن میں علم ٹھونس دینا کسی بھی نتائج کا باعث نہیں ہوتا۔
آج بی ایس او آزاد بھی اس کوشش میں ہے کہ بلوچ نوجوانوں میںیہ خصوصیات پیدا ہوں۔وہ بنیاد پرستی ،فرقہ پرستی،قبیلہ پرستی اور آپسی رنجشوں کو بھلا کر عظیم مقصد آزادی کیلئے یکجا ہوجس میں ان کی فلاح اور ترقی ہے۔اس لئے بی ایس اور آزاد آج ریاستی اداروں اور اسکے دلالوں کے لئے دردسر بناہواہے تو دوسری طرف بلوچ قوم کی ورنا اس تنظیم کے کارکن ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔بی ایس او آزاد نوجوانوں کی علمی اور نظریاتی تربیت کے باعث دنیا بھر میں بلوچ اس تنظیم میں شامل ہورہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ عالمی سامراج کے پھٹو پاکستان ،اسکے ریاستی ادارے اور اسکے مقامی دلال ،یعنی شفیق اور سراج جیسے بلوچ ایک طرف تو ان نوجوانوں کی لاشوں کو مسخ کررہے ہیں تو دوسری طرف یہ پرپیگنڈہ کر رہے ہیں تاکہ بلوچ نوجوان بدظن ہویہاںیہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف تو بلوچ نوجوانوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کے لاشوں کو اس طرح مسخ کرتے ہیں تو دوسری طرف مہر و محبت کا یہ سلسلہ کہ بلوچ نوجوانوں کے تعلیم کیلئے بے چین ،، چہ معنی دارد‘‘۔
اس بات کا جائزہ بھی لینے کی ضرورت ہے کہ بلوچ نوجوان ہی ہر طرف سے ٹارگٹ کیوں ہے؟ارشد محمود جو بائیں بازو کا دانشور ہے ،وہ کہتے ہے کہ ’چونکہ زمانہ شباب فطری طور پر حسن سے منسلک ہے اور جدید زمانے کا نمائندہ بھی ،لہٰذا تاریک قوتیں سب سے پہلے نوجوانوں سے خوفزدہ ہوتی ہے ۔چنانچہ نوجوانوں کو مختلف النوع مقدس نعروں کے فریب دے کر بنیاد پرست اور فرقہ پرسے تنظیموں میں پھانس لیا جاتاہے تاکہ معاشرے میں فطرت نوجوانوں کی شکل میں تبدیلی کی جو بیج پیدا کرتی ہے انہیں ٹھکانے لگادیے جائے اور یہی نوجوان زندگی کی راہوں میں تھوڑا سا آگے جاکر بو ڑی قدروں کی محافظ بن جائے ۔تاریک قوتوں کا مقصد یہ ہوتاہے کہ معاشرہ جہالت کی تاریکی سے نکلنے نہ پائے‘‘۔
اس لئے آج پوری پاکستانی مشینری اور اسکے دلال اسی کوششوں میں مصروف ہے کہ بلوچ نوجوان بنیاد پرست اور فرقہ پرست بن جائے اور بلوچ قومی آزاد ی کے مقدس کاز کو مذہبی رنگ دے کر ناقابل تلافی نقصان
پہنچایاجائے جس طرح کشمیر کی جنگ آزادی کو پاکستان کے نام نہاد مجاہدین نے مذہبی رنگ دے کر بدنام اور ناکام کردیا۔بی ایس اور (آزاد) انہی قوتوں سے بلوچ نوجوانوں کو بچانے کی کوشش کررہاہے اور علمی اورسیاسی محاذپر ان سے بر سر پیکارہے ۔بی ایس اور (آزاد)ہی وہ تنظیم ہے جس نے ڈاکٹر اللہ نظر جیسے کئی عظیم لوگ پیداکئے اور جہاں تک دوسری طریقہ تعلیم کی بات ہے جو قبضہ گیر محکوم قوموں کے لئے وضع کرتی ہے اس کا مقصد ان کو تعلیم یافتہ بنانا نہیں بلکہ قبضہ کیئے گئے علاقوں میں جو ٹوٹا پھوٹا نظام ہے اس کو چلانے کے لئے چپڑاسی ،ماسٹر یا زیادہ سے زیادہ کلرک پیدا کرے ۔اس قسم کے تعلیم کے بارے میں نہرو ہندوستانیوں کے لئے اصطلاح کلرکوں کی قوم کا استعمال کیا.
“رحمت شاہین” ایک گمنام جہد کار”
تحریر :شیرباز بلوچ
آذادی ایک مقدس دیوی ہے اس سے محبت تو سبھی کرتے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ ہوتےہیں جو اس کو پانے کے لیۓ اپنی زندگی ہتھیلی پہ رکھ کر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیۓ اس پر کٹھن
راستے کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیکہ وہ غلامانہ زندگی کو ہمیشہ کے لیۓ دفن کرکے آذاد زندگی سے پرلطف ہوسکے جو غلامانہ زندگی میں دور دور تک اس کا وجود نہیں ملتا. اس مشکل و کٹھن سفر میں احساس غلامی رکھنے والے اپنے دھرتی کے مٹی سے بندھے ھوتے ہیں وہ اس جہدء سفر میں آخری سانس تک جڑے ہوتے. تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو شاید ایسا کوئی دن گزرا ہوگا جو کسی بلوچ شہید کی برسی کا دن نہ ہوں . لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ھیکہ مادرء وطن کے حقیقی فرزند اپنے ماتھے پر گماشتوں کے ریپ ، اپنوں کی عیش و عشرت اور عزت و ناموس کی للکار کو برداشت کرنے کے بجائے سر کٹوانے کو ترجیح دیتے ہیں. اور جب سر زمین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے فرزند پوری طرح حرکت میں آچکے ہیں اور غیور فرزند اپنے مادر وطن کی حفاظت کے لیۓ گماشتوں اورقبضہ گیروں کے خلاف برسر پیکار ہیں . شہداء کے خون کے لہو کو خوشبو میں بدلنے اور روح کو تسکین دینے کے لیۓ خون کی چشموں کی روانی میں تیزی آجاتی ہے. موسم خزاں آنے کے باوجود درخت نازک کلیاں نکال کر شہداء کے لیۓ نچھاور کراتی ہیں.
دھرتی کی مٹی شہداء کے لہو کو چمکانے اور آنے والی نسلوں کو آجوئی کاپیغام دینے کے لیۓ اپنی طاقت سے کئی زیادہ جاں فشانی سے ہر خطرے کا مقابلہ کررہے ہوتے ہیں، اب بلوچ گل زمین کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس کے غیرت مند فرزند اپنے جانوں کی بازی لگا کر اسے دشمنوں کی غلامی سے آذاد کرانے کے لیۓ پوری طرح متحرک ہیں.
بولان کی دھندناتی خوشگوار ہوا شہداء کے لہو کی خوشبو قوم کے گھروں ، گدانوں، گلیوں سے بوڑھے، بچے، جوان، مرد و خواتین نکل کر احتجاجوں سے بلوچ قوم کے جہد ء آجوئی کو رنگ لانے کی صدا کررہی ہے.
ایسی خوبصورت شب ہے اور پر سکون رات کے اس لمحے ہر طرف خاموشی ہے عیش و عشرت کے پجاری مسرور نیند میں مدہوش ہیں، پرندے رات کے اس لمحے خود کو بے زبان کیے ہوئے ہیں لیکن سرخ سلام ان جوانوں کو جو اپنے مادر ء وطن کی رکھوالی کے لیۓ سکھ چین کو ٹھکرا کر وطن پر فدا ہونے کے لیۓ بے تاب اور جہدء آجوئی کو جاری رکھے ہوۓ ہیں.
اسی طرح بلوچ گل زمین کا ایک گمنام فرزند شہید ء بولان سنگت رحمت شاھین ایک غریب گھرانے رئیس کیچی خان بنگلزئی بلوچ کے گھر اپریل 1975 مقبوضہ بلوچستان اسپلنجی میں آنکھ کھولی. ابتدائی تعلیم پرائمری تک گاوں کے ہائی سکول اسپلنجی سے مکمل کی. پھر ان کا خاندان ذریعہ معاش تلاش کرنے اسپلنجی سے نکل مکانی کرکے وادی ء بولان کے شہر مچھ کا رخ کیا. شہید نے مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیۓ ہائی سکول مچھ میں داخلہ لیااور میٹرک تک ہائی اسکول مچھ میں زیر تعلیم رہے اس کے بعد شہید نے مزید تعلیم حاصل کرنے کیلیۓ کچھی کے علاقے بھاگ شہر کا رخ کیا. اور انٹر کالج بھاگ سے انٹرمیڈیٹ پاس کی.اور اس کے بعد آخر تک وپڈا میں ملازمت سے منسلک رہے.
شہید کو بچپن سے مطالعے کا بہت شوق تھا وہ مختلف رسالوں اور کتابوں سے تاریخ اور شاعری جمع کرکے ان سے سیکھتا رہتا تھا. جونہی وقت گزرتا گیا وقت و حالات نے شہید کوقوم و وطن کے غلامی کا احساس دلاتےہوئے دھرتی کے ھمدردوں کے صفحوں میں شامل کردیا. اور شہید نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بی.ایس.او کے پلیٹ فارم سے کرتے ہوۓ ہر نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنی جدو جہدکو جاری رکھتے ہوئے بلا خوف و خطر ایک انقلابی استاد کی احثیت سے بلوچ نوجوانوں میں شعورء آذادی کواجاگر کرتا گیا مختلف بلوچی میگزین میں مختلف فرضی ناموں سے آرٹیکل لکھتا رہا اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران شہید رحمت شاہین کی ملاقات شہید مزارء بلوچ استاد حمید شاہین و شہیدء آجوئی علی شیر کرد سے ہوئی اور یہ فکری دوستی پروان چھڑتے ہوئے ساتھ مل کر بلوچ قومی فوج بی.ایل.اے کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا .
جدوجہد کرتے ہوئے شہید نے ایک عظیم مقام حاصل کی جو ریاست کے مقامی گماشتوں کے لیۓ موت کا سبب بنتا رہا جنہوں نے قابض ریاست کی ایماء پر شہید کو زیر کرنے کے لیۓ ہزاروں ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہوۓ پہلی شہید کو 8 دسمبر 2009 کو ڈیوٹی پر جاتے ہوۓ مقامی گماشتوں کی کاوشوں سے مچھ پولیس نے یہ کہہ کر اٹھا لیا کہ ایس پی نے آپ کو طلب کیا ہے شہید پولیس وین میں بیھٹے 10 منٹ کا فاصلہ طے کرکے ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کرخفیہ اداروں کے حوالے کردیا.
وہاں شہید رحمت شاھین پر بے رحم تشدد کا نشانہ بناتے رہے. پھر ان کی صحافی دوستوں کی شدید احتجاج کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکاروں ان پر کئی بے بنیاد کیسز لگا کر سبی کے جیل میں زندہ لاش بنا کر ڈال دیا.
جہاں وہ 4 ماہ جیل میں قید کاٹ کر ریاست کے گماشتوں کو بدنامی نصیب ہوتے ہوۓ کچھ نہ ثابت ھونے کے بعد رہا ہوئےاور بلوچ نوجوانوں نے شہید رحمت شاھین کی رہائی پر ان کا ولوانہ استقبال کے بعد انھیں اپنے ساتھ ان کے گھر لے آئے وقت گزرتے گزرتے ریاستی گماشتوں پر شہید کی موجودگی سے زمین تنگ ہونے لگی آخرکار قابض کے درندوں نے پھر 3 مارچ 2011 کو کچھی بھاگ سے آتے ہوۓ ڈھاڈر کے مقام پر سینکڑوں کی تعداد میں تعاقب میں ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انھیں اس کے ایک رشتہ دار شہید عبدالرسول کے ھمراہ اغوا کرکے لے گئے اور پھر 1 اپریل 2011 کو شہید سنگت رحمت شاھین کی گولیوں سے چھلنی لاش کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے ملی اور اسے ھمدردوں نے قومی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاوں اسپلنجی میں سپرد گل زمیں کردیے.
آج رحمت شاھین ہم سے جسمانی طور پر تو جدا ہے لیکن ان کا نظریہ، فکر ء آجوئی ھر دل میں دھڑتا ہیں.اور بولان کے پہاڑوں میں گونج رہا ہیں۔
“نقلابی کارکن کی شناخت”
تحریر : خاکی جویو
انقلابی کارکن کشادہ دل اور وسیع الذہن ہوتا ہے ۔ مخلص اوایماندار ہوتا ہے وہ جدوجہد سے نہیں کتراتا ، انقلابی مفادات کو اپنے مفادات ،سمجھتا ہے اور اپنے مفادات کو انقلابی مفادات کے زیر طابع رکھتا ہے ۔وہ ہر وقت اور ہرجگہ انقلابی اصولوں پر ثابت قدم رہتا ہے اور غلط رجحانات ، خیالات اور عمل کے خلاف انتھک جدوجہد کرتا ہے تاکہ تنظیم کے اجتماعی مفادات کو مضبوط کرسکے وہ تنظیم اور عوام کے مابین ذرائع کو مضبوط بناتا ہے ۔ انقلابی کارکن کسی فرد واحد سے زیادہ تنظیم اور عوام کے مفادات کو اہم سمجھتا ہے اور اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کاخیال رکھتا ہے ۔
وہ جانتا ہے کہ صرف اسی طرح ہی وہ حقیقی انقلابی کارکن بن سکتا ہے ۔ ہر انقلابی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے قول اور فعل کے ذریعے عوام کی اکثریتی مفادات کو اولیت دیتا ہے یا نہیں ؟ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے یا نہیں ؟ ایک انقلابی کارکن کو ہمہ وقت ہر جگہ اپنے مفادات کو قوم اور عوام کے مفادات کے تابع رکھنا چاہیے ۔ خود غرضی ، لالچ ،سستی ،کاہلی ،بداطواری ،بداخلاقی اور خودپسندی ایسی باتیں ہیں جو قابل نفرت اور قابل حقارت ہیں ۔ بے لوث ہوکر عمل کرتے رہنا ، انتھک جدوجہد اور عوامی مفادات اور کام کے لیے دل و جان سے وقف کردینا یہ ایسی باتیں ہیں جو قابل احترام اور لائق عزت اور محبت ہیں ۔
انقلابی کارکنوں کو ہمیشہ سچائی اور صداقت کی سربلندی کے لیے برسرپیکار رہنا چاہیے کیونکہ ہر سچائی اور صداقت عوامی مفاد کے لیے ہوتی ہے اور انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو غلطیوں کی اصلاح کے لیے خود ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہر غلطی عوامی مفاد کے ٹکرائو میں ہوتی ہے ، انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو ہمیشہ معاملات اور مسائل کے اسباب و علت کی چھان بین کرنی چاہیے اور اپنی عقل و دانش کو برائے کار لانا چاہیے ۔ انہیں اس بات پر بطور خاص توجہ دینی چاہیے کہ وہ جو باتیں کہہ رہے ہیں آیا وہ حقائق سے میل کھاتی ہیں یا نہیں ؟ کیا ان باتوں کی کوئی ٹھوس بنیاد ہے بھی یانہیں ؟ انہیں اس سے برعکس باتوں کی بند آنکھوں پیروی کبھی نہیں کرنی چاہیےاور ہر قسم کے ملازمانہ اور غلامانہ ذہنیت کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے ۔ انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو ہمیشہ مجموعی قومی مفاد کو اولیت دینی چاہیے ۔ انہیں خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہر تنظیمی ممب کام کی ہر شاخ اور ہر قول و فعل کو پوری تنظیم کے مفاد کے تابع رکھنا چاہیے اور اس اصول کی خلاف ورزی کی کسی صورت اجازت نہیں دیں ۔ انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ دانش و
انقلابی کارکنوں اور رہنمائوں کو عوام کی اکثریت سے الگ ہوکر جلد بازی میں آگے بڑھ کر چند ترقی پسند گروہوں کی رہنمائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے بلکہ انہیں ترقی پسند گروہوں اور عوام کے مابین نزدیکی روابط پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ انقلابی کارکن بیج کی مانند ہوتے ہیں اور عوام زمین کی طرح ، اس لیے عوام سے نزدیکی رابطہ ان سے میل جول رکھنا اور ان میں گھل مل جانا ضروری ہے اس کے لیے ان میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ہر معاملے میں عوام سے رابطہ کرسکیں ، اگر انقلابی کارکن کمروں میں بیٹھ کر جمائیاں لیتے رہے تو طوفان سے ٹکرا کردنیا کا مقابلہ نہیں کر پائے گے ۔ یہ طوفان دراصل عوامی جدوجہد کا طوفان ہوتا ہے اور دنیا دراصل عوامی جدوجہد کی عظیم دنیا ہوتی ہے ، انقلابیوں کی کردار زبردست اور مثالی ہوتی ہے اس لیے پارٹی کارکنوں کو ہر حال میں بہادری سے اپنی جنگ جاری رکھنی چاہیے اور پارٹی احکامات اور ضوابط کی پیروی کرنی چایہے ، انہیں سرگرمیوں کے دوران تنظیم کے اندرونی اتحاد اور استحکام کو مقدم رکھنا چاہیے ۔
انقلابی کارکنوں کو کبھی خودخیال اور خود پسند نہیں ہونا چاہیے ، انہیں کبھی بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہی عقلِ کل ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ خود کو اپنے کمرے تک محدود کردیا جائے بلکہ صرف یہ ہے کہ انہیں خودستائی یا پھر اپنے منہ میاں مٹھو نہیں ہونا چاہیے ۔ کارکنوں کو دوسروں کے خیالات دھیان اور توجہ سے سننے چاہیے اگر ان کا نقطہ نظر غلط ہو تب بھی ان کی بات کو مکمل طور پر سنا جائے اور اس کے بعد انہیں صبر و تحمل سے سمجھانا چاہیے ، جو اپنے کام غلط طریقے سے کررہے ہوں انہیں سمجھانا چاہیے لیکن ٹوکنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرسکے کسی غلطی پر انہیں ایک دم تنظیم سے خارج کردینا غلط ہے بلکہ انہیں اپنی غلطی کی اصلاح کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے ۔ جو دوست سیاسی جانکاری کے معاملے میں کمزور ہوں انہیں حقیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ دوستی کرکے ان کو قائل کرنا چاہیے اور انہیں تربیت دی جانی چاہیے انہیں آگے بڑھنے میں مدد فراہم کی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔
عزیزچینی ماوں کے نام! 27 مارچ یوم سیاہ
تحریر : پروفیسر نائلہ قادری بلوچ (صدر ورلڈ بلوچ ویمنز فورم)






